کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے دنیا بھر کی کمپنیاں مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ دفاتر کے اندر ماسک کے علاوہ ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال جاری ہے۔
تاہم سعودی کمپنی ارامکو کی جانب سے بھی ایسا ہی کچھ اقدام کیا گیا جسے لوگوں نے انتہائی ناپسند کیا۔
تفصیلات کے مطابق ارامکو نے اپنے ایک ورکر کو سینیٹائزر ڈسپینسر کا کاسٹیوم پہنا کر پورے دفتر میں گھمایا۔ جِس پر کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اب یہ اطلاعت آرہی ہیں کہ ارامکو کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقیدی ردعمل سامنے آنے کے بعد معافی مانگ لی گئی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگ اسے غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں، لیکن تصویر میں دکھائی دینے والا شخص غیر ملکی ہے، اس لیے بہت سے لوگوں نے اسے نسل پرستانہ بھی قرار دیا ہے۔

عروسہ اظہر نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر انسانی رویے کی وجہ سے کورونا جیسی تباہی آئی ہے۔

حبیبہ محمد علی نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ انتہائی شرمناک اور غلط ہے۔ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ اسے روکیں۔ جن لوگوں نے اس بندے سے ایسا کروایا وہ خود کو اس شخص کی جگہ رکھ کے سوچیں۔