بچوں کو پڑھنا برا نہیں لگتا لیکن امتحانات دینے سے کوفت آتی ہے کیونکہ ان میں محنت کرنی پڑتی ہے اور بہت زیادہ دماغ لگانا پڑتا ہے۔ اور اکثر بچوں کو آپ نے یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ کون ہے وہ جس نے امتحان بنائے، پتہ نہیں کیوں امتحانات بنا دیئے گئے ہیں؟ آخر کون ہے وہ؟
آج ہم بتا رہے ہیں آپ کو اس شخص کا نام اور امتحانات بنانے کی ایسی وجہ جو دلچسپ بھی ہے اور اہم بھی ہے۔
امتحانات بنانے والے شخص کا نام '' ہینری فیسکل '' ہے۔ اس نے انیسویں صدی میں امتحانات کو متعارف کروایا ۔ ہینری ایک امریکی بزنس مین اور فلاسفر ہے جس سے امریکہ میں ایک کیبنٹ میٹننگ کے دوران امتحانات کے بارے میں وضاحت کی۔ مگر آپ کو یہ بات بھی جان کر حیرانی ہوگی کہ سب سے پہلے امتحان امریکہ میں نہیں بلکہ چائنہ میں لیا گیا تھا۔
وجہ:
ہینری چونکہ ایک فلاسفر اس سے باریک بینی سے اس بات کا مطالعہ کیا کہ ایک دفعہ انسان کچھ بھی پڑھ لے وہ اس کے لیئے کافی نہیں ہوتا، بار بار جب تک اس کو دہرایا نہ جائے اور کسی بات کو مکمل غور لگا کر یاد نہ کر لیا جائے تاریخ اور فلسفے یاد نہیں رہ پاتے، اور ایک پڑھ کر دوسرا پڑھ لیتے، یوں یہ سلسلہ بڑھتا جاتا ہے اور جب ذہنی آزمائش انسان چار عقل دانوں کے سامنے کریں تو اسے کچھ یاد نہیں رہتا کہ کونسی بات کہاں پڑھی تھی یا کس بات کی حقیقت کیا تھی؟
لہذا ہینری نے شدت سے اس چیز کو سمجھا کہ جب ایک پختہ عمر کے فرد کو پڑھی ہوئی چیزیں یاد نہں رہتی ہیں تو ایک ۵ سالہ بچہ کیسے اپنے ذہن میں باتوں کو محفوظ بنا سکتا ہے جب تک کہ ذہنی آزمائش نہ کی جائے۔
یہی وجہ تھی کہ اس نے امتحانات کو متعارف کروایا، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے کبھی خود اپنی زندگی میں کوئی ایک بھی امتحان نہ دیا۔