کاروباری برادری سے مشاورت، ٹیکس نظام اور برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات پر غور

image

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں کاروباری اور برآمدی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام میں مزید بہتری، برآمدات کے فروغ اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں تجارت میں سہولت، صنعتی مسابقت بڑھانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ کے لیے مختلف پالیسی اور انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (DLTL)، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ (TUF) اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے نفاذ پر بھی گفتگو کی گئی اور ان کی مؤثر عملداری کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔

کاروباری برادری کے نمائندوں نے کاروبار میں آسانی، آپریشنل استعداد میں اضافے اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات اور معاشی نمو کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت تجارت تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارت اور برآمدی شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں کاروباری رہنماؤں کے وفد نے شرکت کی، جن میں جاوید بلوانی، سید احتشام مظہر، رانا عمران، جمشید مرتضیٰ، زبیر موتی والا، خرم مختار اور اسلم پکھالی شامل تھے۔

اس کے علاوہ سیکریٹری تجارت، ایف بی آر کے ممبر سیلز ٹیکس ڈاکٹر حمید عتیق سرور، چیف کلیکٹر ایکسپورٹس اینڈ آئی او سی او محسن اور ممبر کسٹمز پالیسی اشہاد جواد سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US