میرے شوہر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد کی شہادت نے میرے دل میں بھی پاک بحریہ کا یونیفارم پہننے کا جذبہ پیدا کیا۔ جس وردی میں میں نے ہمیشہ اپنے شوہر کو فخر سے دیکھا، آج اسی جیسا یونیفارم پہن کر اسی مقام پر کھڑی ہوں تو یہ لمحہ میرے اور میری بیٹی دونوں کے لیے بے حد قابلِ فخر ہے۔ ان احساسات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان نیول اکیڈمی میں گزارا گیا ہر دن میرے لیے سیکھنے اور خود کو مضبوط بنانے کا سفر تھا۔ میں پاکستان کی ہر لڑکی سے کہنا چاہتی ہوں کہ اگر میں اپنی بیٹی کے ساتھ یہ خواب پورا کر سکتی ہوں تو آپ بھی اپنے حوصلے پر یقین رکھیں اور مسلح افواج کا حصہ بننے کا خواب ضرور دیکھیں۔
شہادت کا صدمہ بہت سے لوگوں کو توڑ دیتا ہے مگر کچھ لوگ اسی دکھ کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ پاک بحریہ کے شہید افسر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد کی اہلیہ الویرا حمزہ نے بھی غم کے سامنے ہار ماننے کے بجائے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے انہیں ہزاروں پاکستانی خواتین کے لیے امید اور حوصلے کی علامت بنا دیا۔
الویرا حمزہ نے پاک بحریہ میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے شوہر کے مشن کو آگے بڑھایا بلکہ پاکستان نیول اکیڈمی سے کمانڈنٹ گولڈ میڈل بھی اپنے نام کیا۔ انہوں نے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں شمولیت اختیار کرکے ثابت کیا کہ عزم، محنت اور حوصلہ انسان کو ہر مشکل سے آگے لے جا سکتا ہے۔
ان کی کامیابی صرف ایک ذاتی منزل نہیں بلکہ اس بات کا پیغام بھی ہے کہ خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔ الویرا حمزہ کی یہ کامیابی ان تمام پاکستانی لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہیں اور مسلح افواج میں اپنا کردار ادا کرنے کا خواب دیکھتی ہیں۔