مالی سال 26-2025 عوام کے لیے مہنگائی کے حوالے سے انتہائی بھاری ثابت ہوا جہاں شہری ملکی تاریخ کے مہنگے ترین پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری کے ساتھ ساتھ پٹرولیم لیوی کے ریکارڈ بوجھ کو بھی برداشت کرنے پر مجبور رہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 جون کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 257 روپے 76 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 199 روپے 98 پیسے تک اضافہ کیا۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھائے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے، جس کے باعث عام شہریوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں بھی عوام پر تاریخی بوجھ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں صارفین کو ملکی تاریخ کی بلند ترین ایندھن قیمتیں ادا کرنا پڑیں۔