سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) نے مقابلے کے امتحان 2024 کے نتائج اور بھرتی کے عمل کو روکنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 ہزار سے زائد امیدواروں میں سے شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کے بعد صرف 70 امیدوار کامیاب قرار پائے، جبکہ ناکام امیدواروں کی جانب سے لگائے گئے الزامات محض مفروضوں اور بے بنیاد دعوؤں پر مشتمل ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت اور سندھ پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کیے بغیر پہلی ہی سماعت میں حکمِ امتناع جاری کیا، جس کے باعث صوبائی سول سروس میں بھرتیوں کا پورا عمل معطل ہوگیا ہے۔
دوسری جانب، امتحان میں ناکام بعض امیدوار نتائج اور امتحانی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی اور ساکھ پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آتی رہی ہے، تاہم ان الزامات کی حتمی تصدیق یا تردید عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ 30 جون کو اس اہم آئینی درخواست کی سماعت کرے گا، جس کے فیصلے پر ہزاروں امیدواروں اور صوبائی سول سروس کی آئندہ بھرتیوں کا انحصار ہے۔