اخبارات پر مزاحیہ تصاویر بنانا ہو یا پھر کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگ جانا ۔۔۔ پہلے کے بچوں کی کچھ ایسی دلچسپ شرارتیں و کھیل جو اب نہیں

image

بچپن کی شرارتیں اور موج مستیاں زندگی بھر یاد رہتی ہیں، جوں جوں انسان بڑی عمر کی طرف بڑھتا ہے اسے اپنا ماضی زیادہ شدت سے یاد آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یوں تو ہر دور کے بچوں کا بچپن تقریباً یکساں ہی گزرتا ہے مگر چونکہ ہر فرد منفرد ہے تو ہر ایک کی کہانی بھی علیحدہ ہوتی ہے۔

لیکن یہاں بچپن کی شرارتوں اور منفرد عادتوں کی بات کی جارہی ہے تو کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو صرف 90 کی دہائی کے پاکستانی بچے ہی بیان کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے بھی اپنے بچپن میں شرارتیں کی ہیں تو یہ خبر آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی ہوگی اور آُپ کے اندر اپنے گزرے ہوے شرارتوں سے بھرپور ماضی کی یادیں ایک بار پھر تازہ ہوجائیں گی۔

کوئی اگر شرارتی قسم کا بچہ ہو تو اس کی منفرد حرکات گھر والوں کے ساتھ پورے محلے کو یاد رہتی ہیں تو آج ہم جانیں گے کہ پہلے کے پاکستانی بچے کس طرح کی شرارتیں کیا کرتے تھے، آپ بھی دیکھیں شاید آُ بھی انہیں بچوں میں شامل ہوں۔

شکلیں بگاڑ دینا

پہلے کے دنوں میں اخبارات اور میگزین سب کے گھروں میں موجود ہوتے تھے تو فارغ اوقات میں بچے اکثر میگزین میں بنی ماڈلز اور دیگر تصاویر پر بچے پنسل یا قلم سے ان چہروں پر مونچھیں اور داڑھی بنا دیتے تھے۔

دروازے کی گھنٹی بجا کر بھاگ جانا

موبائل اس وقت کسی پاس نہیں تھا ، شرارتی بچوں کا وقت اکثر گھروں کے باہر کھیل کود اور ہنسی مزاق میں ہی گزرتا تھا۔ ان دنوں بچوں میں ایک شرارت جو کہ بہت مقبول تھی جس میں وہ گھروں کی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتے تھے اور محلے دار پریشان ہوجاتے۔

سافٹ ڈرنکس کے ڈھکن جمع کرنا

سافٹ ڈرنک کی ٹوپیاں (ڈھکن) جمع کرنا 90 کی دہائی کے بچوں کا قومی مشغلہ تھا۔

چھرے والی کھلونا بندوق

مختلف تہواروں میں دیکھا جاتا رہاہے کہ بچے چھرے والی کھلونا بندوق سے کھیلنا بہت پسند کرتے ہیں۔ لیکن یہ کھیل کبھی کبھار خطرناک صورت بھی اختیار کرلیتا تھا کیونکہ چھرے والی بندوق سے آنکھوں کو بہت خطرہ تھا اور سنگین واقعات رونما ہونے کے باعث اس کھلونے پر پابندی عائد کردی گئ ہے۔

دروازے کے فریم پر چڑھ جانا

بچوں کا ایک اور منفرد مشغلہ، ہاتھوں اور پیروں کی مدد سے دروازے کے فریم کے اوپر تک چڑھ جانا۔

کرسیوں کا پہاڑ

٩٠ کی دہائی کے بچوں کو ایک کرسی کے بجائے اس کے اوپر مزید چھ کرسیاں دال کر بیٹھنا بہت پسند تھا۔ شاید آپ نے بھی اپنے بچپن میں ایسا کیا ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US