پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافےکی خبر نے غریب عوام کی کمر ایک بار پھر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گزشتہ دن وزیرِاعظم ہاوئس کے اعلانیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں دو رہپے ستر پیسے فی لیٹر پیسے کے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت گیارہ روپے نوے پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے اٹھاسی پیسے بڑھا دیئے گئے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت ایک سو سولہ روپے سات پیسے ہوچکی ہے۔ جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے اضافے کے سبب اس کی قیمت انھتر روپے تئیس پیسے تک پہنچ چکی ہے ۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی تین روپے چون پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت اسی روپے انیس پیسے ہوگئی ہے۔
اپوزیشن کی تنقید :
ڈیڑھ ماہ میں تیسری بار پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر وزیرِاعظم کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِخزانہ مفتاح اسماعیل ،وزیرِاعظم کو یاد دلاتے ہوئے طنز کرتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں میں جب کبھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی تھیں تو عمران خان مسترد کر دیا کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ میڈیا کو بھی لتاڑتے ہیں کہ مسلسل قیمتیں بڑھانے جانے کے باوجود میڈیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔
عوامی ردِعمل :
مسلسل تیسری بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر عوام شدید دکھ، صدمے اور غصے کا شکار ہیں۔ عوام کے مطابق عمران خان کی حکومت نے ان کو شدید مایوس کیا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر غصے سے سوال کررہے ہیں کہ کیا یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کا وعدہ عمران خان نے ہم سے کیا تھا؟ کچھ لوگ تو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر سر عام پچھتاوے کا اظہار بھی کرتے نظر آرہے ہیں ۔
دیکھا جائے تو نہ ہی اپوزیشن کی تنقید بلا جواز ہے اور نا ہی عوام کا غصہ کیونکہ موجودہ وزیرِاعظم ماضی میں کچھ اسی قسم کے بیانات دیتے رہے ہیں اور ہر بار قیمتیں بڑھانے پر سابقہ حکومتوں پر چوری اور بد عنوانی کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اب البتہ صورتحال مختلف ہے ۔عمران خان اپوزیشن لیڈر کے بجائے وزیرِاعظم ہیں اور اب پیٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر وزیرِ اعظم اور حکومت یہ عذر دیتے ہیں کہ مہنگائی کی اصل جڑ دراصل سابقہ حکومتوں کی چوری اور بدعنوانی ہے اور اب اپنے دورِ حکومت میں اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیشن اتھارٹی) کو جواز بنا کر کہتے ہیں کہ اوگرا کےبارہ رہپے فی لیٹر پیٹرول بڑھانے کی تجویز پر عمل کرنے کے بجائے ہماری حکومت محض چند روپوں کا ہی اضاٍفہ کررہی ہے گویا یہ بھی ایک احسان ہو۔

حکومت اس طرح اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے یہ بھول جاتی ہے یہی مسائل گزشتہ حکومتوں میں بھی تھے اس کے باوجود عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں ابھی تک عوام کو یوٹرن اور مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ ڈھائی سال گزر جانے کے بعد بھی حکومت تمام تر ناکامیوں کا زمہ دار سابقہ حکومتوں پر ڈالتی پائی جاتی ہے چنانچہ بہتر یہی ہے کہ حکومت الزام تراشی کی سیاست سے باز آکر انی اصل ذمےداریوں پر توجہ دے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے۔
New Petrol Prices for Feb 2021