“اگر کائنات میں میری کوئی جیت ہوگی تو وہ تم ہوگی“ ٹی وی پر مجنوں بنا ہیرو ڈائیلاگز بولے جارہا ہے اور لڑکے لڑکیاں اپنے آنسو چھپائے خود کو ہیرو اور ہیروئین کی جگہ محسوس کرتے ٹی وی دیکھے جارہے ہیں۔ لیجئے ڈرامہ تو ہٹ ہوگیا لیکن اب اس نوجوان نسل کو کون سمجھائے کہ یہ ڈائلاگز،، سستی شاعری، اچھے بھلے پڑھے لکھے ہٹے کٹے ہیرو کا مزار پہ بیٹھ کر صدقہ خیرات پہ گزارا کرنا یا ہیروئین کا سابقہ محبوب کے عشق میں اپنا بسا سایا گھر برباد کرنا محبت کی معراج نہیں بلکہ ڈرامے کی ریٹنگ بڑھانے کے طریقے ہیں۔ اور اس پبلسی اسٹنٹ کے معاشرے پر کوئی مثبت نتائج نہیں نکلتے
جو عمر کام کرنے کی ہے اسے سستی شاعری میں ضائع کرنا
ٹی وی پر کام کرنے والا اداکار تو اپنے کردار کے پیسے لاکھوں میں لے گا لیکن جو نوجوان نام نہاد ہیرو کی اندھی تقلید میں محبوبہ کو متاثر کرنے کے لئے سستی شاعری کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ عمر ان کے تعلیم حاصل کرنے اور محنت کرنے کی ہے۔ وقتی طور پر شاید محبوبہ ان سے متاثر ہو بھی جائے لیکن جب شادی کا وقت آئے گا تو نا صرف محبوبہ بلکہ اس کے گھر والے بھی اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی سستے شاعر کے بجائے ایک قابل انسان کے ہاتھ میں ہی دیں گے۔
ماں باپ کی رسوائی
ایسے سستے عاشقوں کا بس کہیں اور تو چلتا نہیں اس لئے ان کی زیادتیوں کا نشانہ معصوم اور پیار کرنے والے ماں باپ ہی بنتے ہیں جو کہیں اپنے بچوں کے عاشقانہ مزاج کی بدولت اسکول ، کالج اور محلے میں رسوا ہورہے ہوتے ہیں تو کہیں لڑکا کمانے دھمانے سے پہلے ہی لڑکی کا رشتہ مانگنے کے لئے گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے۔ یہاں ان لاڈلیوں کی ہمت کی بھی داد دینی پڑے گی جو پیدا کرنے سے پالنے تک کی اماں ابا کی ساری محنت کو پاؤں تلے روندتی ایک ایسے لڑکے کے پیچھے والدین کو رسوا کرنے چل پڑتی ہیں جو اپنے والدین کا ہی نہ ہوسکا۔ٹی وی پر ہیرو کا گھر چھوڑ کر مزار پہ بیٹھنا کوئی قابلِ تقلید نہیں بلکہ شرمناک عمل ہے۔
میڈیا کب تک سستے عاشقوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتا رہے گا؟
سب سے افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ نوجوان نسل کی جذباتیت کو جاننے کے باوجود میڈیا کا کردار اس معاملے میں غیر ذمہ دارانہ ہے۔ جانے کب تک ہمارا میڈیا سستے ڈائلاگز اور سطحی ہتھکنڈوں سے ریٹنگ حاصل کرنے کے چکر میں مجنوں نما لڑکوں کو ہیرو بنا کر دکھاتا رہے گا؟ کیا زندگی کا مقصد صرف کسی کا ناکام عاشق بن کر جینا ہے؟ کیا انسان کی زندگی اتنی سستی ہے کہ اسے کسی دوسرے شخص کے لئے ضائع کردیا جائے؟ کیا لڑکے لڑکیوں پر ان کے ماں باپ، بہن بھائی کا کوئی حق نہیں جو ان ڈراموں میں گھر بار چھوڑنے کو ایک مثال کی طرح پیش کیا جاتا ہے؟ اب ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ایسے ڈرامے اور فلمیں بنائے جن کے ہیرو ہیروئین زمانے بھر کے نکمے، ناکارہ اور خاندان کی امیدوں پر پانی پھیرنے والے کے بجائے معاشرے میں بہتر تبدیلی لانے والے افراد ہوں۔ اور نوجوانوں کو بھی چاہئیے کہ ٹی وی ڈراموں کو مشعل راہ بنانے کے بجائے حقیقی ہیروز کو تلاشیں۔