دنیا بھر میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کہ اپنی مثال آپ ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے آئفل ٹاور۔
آئفل ٹاور ویسے تو فرانس کے شہر پیرس میں واقع ہے اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن آج آپ کو بتائیں گے کہ آئفل ٹاور کس طرح بنایا گیا اور کیوں بنا؟
300.65 میٹر اونچائی والے آئفل ٹاور کی تاریخ بھی اپنے نام کی طرح منفرد ہے۔ جبکہ اگر ہم اس ٹاور پر موجود اینٹینا کو بھی شامل کریں تو اس طرح آئفل ٹاور کی اونچائی 324 میٹر تک جاتی ہے۔ تو کہانی شروع ہوتی ہے 1889 میں، جب ایک فرانس کے شہر پیرس میں سے سے اونچا ٹاور بنانے کا مقابلہ ہوا۔ لیکن اس مقابلے کی ایک شرط تھی، کہ ٹاور کی اونچائی 1000 فٹ ہونی چاہیے۔
دنیا بھر سے مشہور انجینیئرز نے اس مقابلے میں حصہ لیا، انہی میں سے ایک تھے گستاوے آئفل۔
آئفل نے میٹل فریم کا اسٹرکچر پیش کیا تھا، عین ممکن ہے کہ چونکہ آئفل انجینئرنگ کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام تھا اسی لیے یہ فریم دیا ہو۔
آئفل یہ مقابلہ جیت جاتے ہیں اور اس طرح آئفل ٹاور کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔
آئفل ٹاور کے پیروں یا وہ چار پائے جس کی مدد سے ٹاور آج کھڑا ہے اس میں ہائیڈرولک جیکس لگائے گئے ہیں۔
اس طرح نچلے حصے کے بعد باری آتی ہے اوپری حصے کی، جس کے لیے 18 ہزار مختلف پارٹس منگوائے گئے تھے۔ اور پھر کرین کی مدد سے ٹاور کے اوپری حصے کو لگایا گیا۔ گستاوے آئفل ہی وہ پہلے شخص تھے، جو کہ آئفل ٹاور پر چڑھے تھے۔
جبکہ اس وقت آئفل ٹاور کے ٹکٹ کی قیمت ملین ڈالرز میں ہوا کرتی تھی۔