گزشتہ دنوں مینار پاکستان پر ٹاک ٹاکر عائشہ کے ساتھ ہونے والے افسوسناک واقعہ نے جہاں سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے وہیں اب عائشہ کا بیان سامنے آیا ہے۔
عائشہ کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اب میں ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں، جنہوں نے میرے لیے آواز اٹھائی، عائشہ کہتی ہیں کہ میں بیان نہیں کر سکتی ہوں، جس مشکل سے میں آپ سے بات کر رہی ہوں۔
جبکہ عائشہ کا پروپیگنڈا سے متعلق کہنا تھا کہ تمام خواتین نے میرا ساتھ دیا، پاکستانی بھائیوں نے بھی مجھے سپورٹ کیا کیونکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا، سچ کا ساتھ دیا تھا۔
عائشہ نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خدارا غلط فتوے نہ دیجیے، بہت مشکل سے میں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے، مجھے اور مت اچھالیے۔ میں ایک سچ کی جنگ لڑی رہی ہوں، جس میں مجھے آپ سب کا ساتھ چاہیے۔
عائشہ نے مزید کہا کہ میں ریاست مدینہ کی بیٹی ہوں، اس قوم کی بچی ہوں۔ میں اپنی ہی قوم کا نام کیوں خراب کرونگی۔آپ سب مرد میرے محافظ ہیں، ان مردوں کے بغیر عورت بھی محفوظ نہیں ہے۔
مینار پاکستان کے واقعہ سے متعلق عائشہ کا کہنا تھا کہ میں بچپن سے مینار پاکستان جاتی رہی ہوں، کبھی کچھ غلط نہیں ہوا، مگر اس بار یہ واقعہ کیسے ہوا؟ میرے پاس خود اس بات کا جواب نہیں ہے۔ نہ میں نے فحاش قسم کے کپڑے پہنے تھے اور نہ ہی ایسی حرکتیں کیں۔
جبکہ اپنے دوست ریمبو سے متعلق عائشہ کا کہنا تھا کہ ریمبو اور میں پچھلے دو سال سے ٹک ٹاک بناتے ہیں، ریمبو ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے اسی لیے میں اسے معاشی طور پر بھی سپورٹ کرتی ہوں۔ میں ریمبو کی کے ساتھ مینار پاکستان میں داخل ہوئی تھی، جبکہ ریمبو کی اپنی ٹیم بھی وہاں موجود تھی۔ مجھے ریمبو کی ٹیم کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے، میں پہلے کبھی ان سے نہیں ملی مگر وہ ٹیم ممبرز ہیں۔
مستقبل میں ٹک ٹاک کے استعمال سے متعلق عائشہ کا کہنا تھا کہ کہ فالحال ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں بہت افسردہ ہو گئی ہوں، میں ٹوٹ چکی ہوں۔ اب مجھ میں ہمت نہیں ہے میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔