مینار پاکستان پر ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے ساتھ ہونے والے واقعے نے جہاں پاکستان بھر میں نظریں شرم سے جھکا دی ہیں وہیں پاکستانی عوام میں بھی ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین میں کوئی ٹاک ٹاکر کو قصور وار ٹہھرا رہا ہے تو کوئی ان مردوں کو۔ جبکہ بعض دونوں کو مورد الزام ٹہھرا رہے ہیں۔
لیکن آج آپ کو بتائیں گے کہ شاہدرہ کی رہائشی عائشہ کے محلے والے عائشہ کے اس عمل کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
محمد زبیر نامی محلے دار کا کہنا تھا کہ عائشہ بناتی رہتی تھیں ٹک ٹاک ویڈیوز، لیکن 14 اگست کے دن یہ سب ہونا افسوسناک اور شرمندگی کا باعث ہے۔ سب ٹک ٹاک بناتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا ہے جیسا ان کے ساتھ ہوا ہے۔ لوگ ان کے گھر آتے تھے، عائشہ کے ساتھ ٹک ٹاک بنوانے۔
جبکہ ایک اور محلے دار عاصم ملک کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں 80 فیصد قصور عائشہ کا تھا، جب عائشہ کو پتہ ہے اس معاشرے میں لوگ کیسے ہیں تو پھر وہ کسی نامحرم کے ساتھ کیوں نکلی؟ کیا ہمارا معاشرہ اور اسلامی قانون کے بارے میں اسے معلوم نہیں ہے؟
جو لوگ کر رہے تھے وہ تو غلط ہیں ہی مگر غلطی اس کی بھی ہے اسے بھی پکڑنا چاہیے۔
جبکہ ہمسائے محمد عظیم کا کہنا تھا کہ بہت مرتبہ عائشہ کو گلی سے آتے جاتے دیکھا ہے، جو ہوا غلط ہوا مگر اس میں عائشہ کی بھی غلطی ہے، تالی کبھی بھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ہے۔
ایک اور محلے دار نے جذباتی انداز میں کہا ہے کہ بے حیاء لڑکی ہے، اب غلط لوگوں میں جائے گی تو غلط ہی ہوگا نا۔ جبکہ مزید کہنا تھا کہ میں نے ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھی ہیں عائشہ کی، انتہائی بے حیاء اور غیر مناسب ویڈیوز موجود تھیں، غلطی لوگوں کی بھی تھی مگر عائشہ کی بھی تھی۔ رمیز عزیز کا کہنا تھا کہ گارڈ نے عائشہ کو منع کیا تھا مگر پھر بھی عائشہ نہیں مانی۔
جبکہ پاکستانی شوبز ستاروں مینار پاکستان کے واقعے کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور عائشہ سے اظہار یکجہتی کی۔ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا ہے، جو کچھ میں نے دیکھا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا میں میں پھر کہہ رہی ہوں، ان مردوں کو آگےآنے والوں کے لیے مثال بناؤ، ماہرہ کا مزید کہنا تھا کہ دبئی میں اگر کسی خاتون کو کوئی غور سے دیکھے تو اسے جیل ہوجاتی ہے۔ ادکار عثمان خالد بٹ کا کہنا تھا کہ ایک اور دن، ایک اور واقعہ، ہمارے سر شرم سے جھک چکے ہیں۔ مزمتوں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔