گزشتہ روز سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے منسوب ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی ہے۔ جہاں مبینہ طور پر اس وقت کے چیف جسٹس نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینے کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو ٹیپ میں وہ کہہ رہے ہیں کہ، "کہا گیا کہ ہم نے عمران خان کو لانا ہے، نواز شریف اور بیٹی مریم نواز کو سزا دینی ہوگی۔ مبینہ آڈیو ٹیپ میں کہا جارہا ہے کہ مریم نواز کے خلاف کوئی کیس نہیں"۔
دوسری جانب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خود سے منسوب آڈیو ٹیپ کو جعلی قرار دیا ہے اور مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
ثاقب نثار نے کہا کہ آڈیو میں آواز میری نہیں، مجھ منسوب آڈیو جعلی ہے، اور اس حوالے سے کسی کو کبھی کوئی ہدایت نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ اس مبینہ آڈیو ٹیپ کے خلاف کوئی قانونی راستہ اختیار کروں۔
دوسری جانب مبینہ آڈیو ٹیپ کے سامنے آنے پر صحافیوں کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
صحافی ندیم ملک نے لکھا کہ جھوٹ یا سچ: سازش بےنقاب کریں۔ عدلیہ کی آزادی کا تقاضا ہے کہ اس مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی سپریم کورٹ کھلی عدالت میں تحقیقات کروائے۔
جبکہ وسیم بادامی نے لکھا کہ کچھ دیر قبل ثاقب نثار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس آڈیو سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ آڈیو “fabricated” ہے۔