محترمہ فاطمہ جناح پاکستانی خواتین کے لیے ایک ایسی راہ ہیں جس پر چل کر خواتین اپنے حقوق کی جدوجہد میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح جس طرح اپنی زندگی میں مقبول تھیں، اسی طرح رحلت کے بعد بھی لوگوں کو سوگوار کر گئی تھیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو فاطمہ جناح سے متعلق کچھ اییس ہی معلومات فراہم کریں گے۔
فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد قبر تیار ہونے میں 12 گھنٹے لگ گئے تھے، یہ 12 گھنٹے بھی ایک ایسی وجہ سے گے جو کہ عوام کے غم و غصہ اور دباؤ کی بنا پر تھے۔
دراصل فاطمہ جناح کی خواہش تھی کہ انہیں قائدا اعظم محمد علی جناح کے برابر میں دفنایا جائے مگر بقول مرزا ابوالحسن اصفہانی کے، حکومت انہیں میوہ شاہ قبرستان میں دفنانا چاہتی تھی۔
مرزا اصفہانی نے اس اقدام کی مخالفت بھی کی اور اس خطرہ سے بھی آگاہ کیا کہ اگر محترمہ کو قائداعظم کے برابر میں نہ دفنایا گیا تو خراب صورتحال کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ عوام میں اس وقت ایک ایسی جذباتی کیفیت تھی جو کہ انہیں محترمہ کے خلاف کسی بھی اقدام پر بھڑکا سکتی تھی۔
کیونکہ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی تھیں۔
اس حوالے سے کمشنر کراچی نے فاطمہ جناح کے خاندانی افراد اور قائداعظم کے پرانے ساتھیوں سے مشورہ کیا، اسی طرح حکومت سے بھی اس حوالے سے رابطہ کیا گیا۔ اور پھر رات گئے حکومت کی جانب سے محترمہ فاطمہ جناح کو قائد اعظم کے برابر میں دفنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
محترمہ کے جنازے میں ایک دو ہزار نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جانب سے شرکت کی گئی تھی، بچے کیا بوڑھے کیا ہر ایک شخص جنازے میں شریک تھا، جنازہ جس مقام سے گزرا وہاں موجود خواتین محترمہ کے جنازے پر پھول نچھاور کر کے اور دعائیں دے کر خراج تحسین پیش کر رہی تھیں۔
فاطمہ جناح کی قبر قائداعظم محمد علی جناح کے مزار سے ایک سو بیس فُٹ دور بنائی گئی۔ قبر کی لمبائی چھ فُٹ جبکہ چوڑائی تین فُٹ تھی۔ چونکہ زمین پتھریلی تھی اور باآسانی کھودنا مشکل تھا، اسی لیے بجلی سے چلنے والے آلات کا استعمال کیا گیا تھا۔
محترمہ کی قبر کشائی کے لیے بیس گورکنوں نے حصہ لیا تھا، جس کی قیادت 60 سالہ عبدالغنی کر رہے تھے جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان کی قبر کشائی بھی کی تھی۔
چونکہ زمین پتھریلی تھی یہی وجہ تھی کہ قبر کو تیار کرنے میں 12 گھنٹے لگ گئے تھے۔