اب پاکستان میں ہمارا دباؤ نہیں چلتا۔ پاکستان ماضی کی طرح امریکی حکومتوں کے “ڈو مور“والے مطالبے کے دباؤ میں نہیں ہے اور یہ پاکستان کے لئے بہترین وقت ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو سمجھ کر دوبارہ اپنے قومی مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دے“
یہ الفاظ ہیں پاکستان میں موجود امریکہ کے سابق سفیر کیمرون منٹر کے جو ایک سفارت کار رہ چکے ہیں اور اب عالمی مشیر کے طور پر فرائض انجام دیتے ہیں۔ کیمرون منٹر نے منگل کے دن اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بات کی اور اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ “پاکستان کے بارے میں واشنگٹن کے موجودہ خیالات کا انحصار غلط معیارات پر مبنی ہے“
صحافی اطہر کاظمی کا تجزیہ
امریکی سفیر کے اس اعترافی بیانیے کو صحافی اطہر کاظمی عمران خان کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اطہر کاظمی کا کہنا ہے کہ عمران خان کسی شخص سے بات کریں یا دوسرے ملک سے وہ کسی کے سامنے جھکتے نہیں اور اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی سامنے والا ان کے ملک کو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے دوستانہ تعلقات چاہنے کے بوجود عمران خان سابق حکمرانوں کی طرح امریکی “ڈو مور“ کے مطالنے کو اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی اب کسی کو ان سے یہ مطالبہ کرنے کی جرات ہے۔
امریکہ کی غلطیوں کا خمیازہ پاکستان نے بھگتا
سابق امریکی سفیر کے بیان سے ایک دن پہلے وزیرِ اعظم عمران خان نے مارگلہ ڈائیلاگ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ “افغانستان میں امریکہ نے غلطیاں کیں لیکن اس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا“
پاکستان کو کریڈٹ دینے کے بجائے بدنام کیا گیا
عمران خان نے مغربی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “پاکستان کو اس کی قربانیوں کا کریڈٹ دینے کے بجائے ہم پر ڈبل گیم کھیلنے اور بین الاقوامی سطح پر ہماری ساکھ کو بدنام کیا گیا۔ افغانستان میں جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا پھر بھی ہمیں غلط وجوہات کی بنائ پر موردِ الزام ٹہرایا گیا جبکہ کشمیر پر ہونے والے ظلم کے خلاف عالمی برادری نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔
عمران خان کی اسی بات کو تسلیم کرتے ہوئے اگلے دن امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی "شکست" نے علاقائی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے اور اب پاکستان پہلے کی طرح امریکی دباؤ میں نہیں ہے۔