کیا میں صرف 200 میں بیوی بچے پالوں؟ موٹر سائیکل چلا کر روزی کمانے والوں کی دکھ بھری کہانی

image

کیا صرف 200 میں بیوی بچے پال سکتا ہوں؟ میں بہت مجبور ہوگیا ہوں اب کچھ کہہ نہیں سکتا ورنہ میرے آنسو نکل جائیں گے“

یہ کہتے ہی انٹرویو دینے والا بائیک رائیڈر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس حقیقت کو دیکھنے کے لئے اب غور کرنے کی ضرورت نہیں کہ مہنگائی اس قدر ہے کہ آرام دہ زندگی تو کیا بلکہ ضرورت کے مطابق چیزیں خریدنے کے لئے بھی عام آدمی کے پاس پیسے نہیں بچتے۔

اسی غربت کی چکی میں وہ بائیک رائیڈرز بھی پس رہے ہیں جو سارا دن دھوپ میں محنت کرکے چند سو کما پاتے تھے لیکن اب پیٹرول کی قیمتیں آئے دن بڑھنے کی وجہ سے ان کی روزی آدھی سے بھی کم ہوگئی ہے۔

کچھ بائیک رائیڈرز ایسے ہیں جو مسافر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں جو پارسل کو مخصوص مقام تک پہنچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بائیک رائیڈر کا کہنا ہے کہ “پہلے ہمارے پاس سارے دن میں 5,6 سواریاں ہوتی تھیں جن سے چند سو مل جاتے تھے اور گزر بسر ہوجاتی تھی۔ اب پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ چند سو بھی نہیں مل پاتے“

ایک بزرگ بائیک رائیڈر کا کہنا ہے کہ مسافر ہم سے کہتے ہیں کہ آپ کرایہ زیادہ لیتے ہیں جب کہ ہم کہتے ہیں کہ بھائی پیٹرول ہی اتنا مہنگا ہے۔ ہم کس کس کو سمجھائیں کہ اس مہنگائی میں ہمارا گزارا بھی مشکل ہے۔

گزشتہ دن حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ امید ہے پچھلی روایتوں کی طرح اس بار چند روپے کم کرنے کے بعد پیٹرول کی قیمتیں دگنی نہیں کی جائیں گی اور ان غریب خاندانوں کو سکون کی سانس لینے کا موقع دیا جائے گا جن کی زندگی کا دارومدار براہِ راست پیٹرول کی قیمتوں پر ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US