سانحہ اے پی ایس ایک ایسا زخم ہے، جسے کبھی بھرا نہیں جاسکتا ہے، جہاں 156 سے زائد ننھے بچوں سمیت اساتذہ نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں تھں۔ 16 دسمبر 2014 کے دن شہید ہونے والی اے پی ایس کی ٹیچر، صائمہ طارق نے بچوں کی جانوں کو بچانے کیلئے اپنی جان دے کر شہادت قبول کی۔
شہید صائمہ کے شوہر بریگیڈیئر طارق، آج بھی اس دہشت گردی کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، صائمہ نئی نسل کو پڑھانے کیلئے کوشاں تھیں، اس لیے انہوں نے ٹیچر بنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بریگیڈیئر طارق کہتے ہیں کہ خبروں میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ، 16 دسمبر کو اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے دوران، صائمہ نے بچوں کی جان بچانے کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا ہوگا اور کس طرح مگر میرے لیے یہ ایک نہ مٹنے والا زخم ہے۔
بریگیڈیئر طارق نے بتایا، مجھے نہیں معلوم اس وقت کیا ہوا تھا، مگر ایک چیز جس کی میں تصدیق کرسکتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں نے میری بیوی کو جلا دیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے یہ سمجھا تھا کہ ہم ڈر جائیں گے، مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کا مقابلہ کس قوم کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا ایک انسان ہونے ناطے میں دکھی ضرور ہوں، مگر مجھے فخر ہے کہ میری بیوی نے بہادری کے ساتھ ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
بریگیڈیئر طارق نے کہا قرآن کہتا ہے، شہید زندہ ہے، صائمہ بھی ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گی۔
واضح رہے کہ شہید صائمہ کے لواحقین میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں