سردی میں گرم کپڑے ہر جگہ بیچنے والے نظر آتے ہیں۔ لیکن اکثریت بڑی دکانوں اور مال سے خریدنا پسند کرتی ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ ہر کسی کا اپنا اختیار ہے کہ وہ جہاں سے چاہے چیزیں خریدے۔ ایک مرتبہ
ایسے ضرورت مند لوگوں کی طرف بھی نظر دوڑائیں۔غور کریں کہ کہیں ان کو تو آپ کی ضرورت نہیں ہے؟ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ بوڑھے بابا کریم آباد میں بیٹھتے ہیں اور یہ اونی کپڑے خود اپنے ہاتھ سے بنتے ہیں۔
ایسے ہزاروں لوگ ہمیں گلی کوچوں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان سے چند سو روپے کا کوئی بھی سامان خرید لیں چاہے وہ آپ کو قابلِ استعمال لگے یا نہ لگے تاکہ وہ لوگ جو روزانہ کی دھاڑی پر کماتے ہیں ان کا چولہا جل سکے۔