والد کی قبر کو دوبارہ کھولا گیا تھا کیونکہ ۔۔ جنرل ضیاء الحق سے ملنے شتروگن سنہا پاکستان کیوں آئے؟ دلچسپ معلومات

image

جنرل ضیاء الحق کا شمار ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستانی عوام کی توجہ حاصل کر لی تھی، جنرل ضیاء نے اگرچہ کئی ایسے کام کیے ہیں جو کہ توجہ حاصل کر چکے ہیں لیکن ان کی زندگی سے متعلق ایسی باتیں بھی ہیں جو کہ سب کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

جنرل ضیاء نے اپنے دور میں طلباء تنظیموں سے متعلق ایک اہم قدم اٹھایا گیا تھا، یعنی طلباء کی جانب سے مظاہرہ کرنے پر 5 سال قید کی سزا کا قانون لایا گیا تھا۔ جبکہ خواتین سے بدسلوکی کے خلاف بھی قانون لایا گیا تھا جس کے تحت خواتین پر تشدد کرنے والوں کو 10 سال قید کی سزا دی جا سکتی تھی۔

جنرل ضیاء نے ایک اہم حکم یہ بھی دیا تھا کہ کوئی بھی خاتون اینکر بغیر سر پر دوپٹہ لیے اسکرین پر نہیں آ سکتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی اینکر مہتاب راشدی نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا جنہیں ہٹا دیا گیا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کی بیٹی کا نام زین ضیاء ہے جبکہ زین ضیاء جنرل ضیاء الحق کی چہیتی بیٹی ہیں۔ زین ضیاء بچپن ہی سے والد کے قریب رہی ہیں۔ چونکہ زین ضیاء ذہنی طور پر کمزور ہیں اور عام انسانوں سے مختلف ہیں اسی لیے جنرل ضیاء اپنی بیٹی سے بے حد پیار کرتے تھے۔

بھارتی اداکار شتروگن سنہا بھی زین ضیاء سے بے حد پیار کرتے ہیں، شتروگن سنہا زین ضیاء کی معصومیت اور ان کی بے پناہ محبت کے قائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زین ضیاء سے ملنے پاکستان آتے رہتے ہیں۔

شتروگن سنہا اور زین ضیاء ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ زین شتروگن کو اپنا بڑا بھائی مانتی ہے جبکہ شتروگن انہیں اپنی بہت پیاری سی چھوٹی بہن تصور کرتے ہیں۔ شتروگن کا مزید کہنا تھا کہ زین نے مچھلی، بریانی، سبزیوں کی ڈشوں سے ہماری تواضع کی تھی، یہ سب کھانے انہوں نے خود بنائے تھے۔ سب کھانے لاجواب تھے۔ زین ضیاء کی جانب سے شتروگن سنہا کی اہلیہ پونم پانڈے سے بھی بات چیت کی گئی جبکہ ان کی بیٹیوں کو بھی دعائیں دی گئیں۔

جنرل ضیاء الحق کے والد کی قبر نوتھیا قبرستان میں موجود تھی تاہم اب کے جسد خاکی کو اس قبرستان سے آبائی قبرستان زیارت غازی ولی محمد قبرستان متنقل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُس قبرستان میں زمین سے نکلنے والا پانی قبروں کو خراب کر رہا تھا، جس کی وجہ سے خدشہ تھا والد کی قبر بھی متاثر ہوتی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US