تین کروڑ 74 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہونے والے گوشت خور اور خطرناکڈائنوسار کا یہ ڈھانچا 12 فٹ (4 میٹر) سے زیادہ بلند ہے اور اس کی 60 فیصد سے زیادہ ہڈیاں برآمد ہونے کے باعث یہ اب تک ملنے والے مکمل ترین نمونوں میں سے ایک ہے۔

چھ کروڑ 70 لاکھ سال قدیم ٹائرانوسورس ریکس (یعنی ٹی ریکس) کا ایک فوسل (ڈھانچہ) نیویارک میں دنیا کے معروف نیلام گھر سوتھبیز کی نیلامی میں تین کروڑ 74 لاکھ پاؤنڈ (5 کروڑ 1 لاکھ ڈالر ڈالر) میں فروخت ہوا ہے۔
یہ کسی بھی ڈائنوسار کے لیے اب تک ادا کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
سوتھبیز کے مطابق اس گوشت خور اور خطرناک ڈائنوسار کا یہ ڈھانچہ 12 فٹ (4 میٹر) سے زیادہ بلند ہے اور اس کی 60 فیصد سے زیادہ ہڈیاں برآمد ہونے کے باعث یہ اب تک ملنے والے مکمل ترین نمونوں میں سے ایک ہے۔
منگل کو ہونے والی اس فروخت میں کامیاب بولی دینے والےکی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
2021 میں امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک دور دراز علاقے میں دریافت ہونے والے اس ٹی۔ ریکس کو گس کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹی ریکس وہ ڈائنوسار ہے جسے کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔
کنگ کانگ اور جراسک پارک جیسی فلموں میں دکھائی دینے کے بعد اور ایک برطانوی راک بینڈ کے نام کا حصہ بننے کے باعث یہ ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔
سوتھبیز میں سائنس اور قدرتی تاریخ کی عالمی سربراہ کیسینڈرا ہیٹن کہتے ہیں کہ یہ نتائج کئی سال کی محنت کا ثمر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ گس نہ صرف ایک غیر معمولی دریافت ہے بلکہ ایک ایسا نمونہ بھی ہے جسے انتہائی مہارت کے ساتھ زمین سے نکالا گیا، اس کی دستاویزات تیار کی گئیں، اسے محفوظ کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال کی گئی۔‘
گس کی یہ شاندار بولی 2024 میں ایک سٹیگوسورس کی جانب سے قائم کیے گئے گذشتہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گئی ہے اور پانچ کروڑ ڈالر کی حد عبور کرنے والی پہلی فروخت بھی ہے۔
کچھ سائنس دانوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نیلامی انتہائی رئیس افراد کی جانب سے فوسلز جمع کرنے کے رجحان میں ایک نئے دور کی شروعات کر سکتی ہے۔
ہیٹن کا کہنا ہے کہ ادا کی گئی رقم اس نمونے کو دریافت کرنے اور محفوظ کرنے میں صرف ہونے والے وقت اور وسائل کا احاطہ کرتی ہے۔
67 ملین سال قدیم ٹائرانوسورس ریکس کی ہڈیوں کو 2021 سے 2023 کے درمیان موسم گرما میں زمین سے نکالا گیا۔ ان دنوں جب موسم اتنا گرم ہوتا تھا کہ زمین کی جمی ہوئی سطح پگھل جاتی تھی۔
تاہم ٹی۔ ریکس کو دوبارہ جوڑنے میں لیبارٹری میں مزید تین سال لگے۔
اس کام کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی کھوپڑی پر کاٹنے کے نشانات تھے اور اس کی کچھ پسلیاں زندگی کے دوران ٹوٹنے کے بعد بھر چکی تھیں۔
ممکنہ طور پر یہ دونوں چوٹیں خوراک کی تلاش کے دوران یا دوسرے ڈائنوسارز کے ساتھ لڑائی میں آئی تھیں۔
خریدار کی شناخت سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن گذشتہ ریکارڈ رکھنے والے سٹیگوسورس ایپکس کو اس کے ارب پتی مالک کینتھ گرفن نے چار سال کے لیے امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کو دیا تھا۔
اس لیے اگر گس کو کسی انتہائی رئیس شخص نے خریدا بھی ہے، تب بھی ممکن ہے کہ وہ جلد آپ کو عجائب گھر میں نمائش کے لیے دیکھنے کو ملیں۔
گس نامی اس ٹی۔ ریکس کو امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے بیڈ لینڈز علاقے میں دریافت کیا گیا تھا، اور اس کا نام اس زمین کے مرنے والےمالک کے نام پر رکھا گیایاد رہے کہ سوتھبیز دنیا کے معروف نیلام گھروں میں سے ایک ہے۔
1997 میں اس نے قدرتی تاریخ سے متعلق اپنی پہلی نیلامی منعقد کی، جس میں فوسلز اور قدیم تاریخ کی دنیا سے تعلق رکھنے والی دیگر نایاب اشیا فروخت کی گئیں۔
یہ ایک محدود نوعیت کی تقریب تھی جس میں زیادہ تر دنیا بھر کے عجائب گھر شرکت کرتے تھے تاکہ اپنے لیے نوادرات حاصل کر سکیں۔
اس روز اشیا کی فہرست میں ایک ٹائیرانوسارس ریکس بھی شامل تھا جس کا نام سو تھا۔ اسے بالآخر شکاگو کے فیلڈ میوزیم نے 80 لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔
اور اس کے تقریباً 30 سال بعد، منگل کو ایک اور ٹی ریکس سالانہ نیلامی میں پیش کیا گیا تھا جو اس نوع کے اب تک دریافت ہونے والے سب سے مکمل نمونوں میں سے ایک ہے۔
اس بار صرف سائنس دان ہی ڈائنوسارز کی تلاش میں نہیں بلکہ انتہائی دولت مند افراد بھی اس دوڑ میں شامل رہے۔
اس سے قدرتی تاریخ کی دنیا میں جاری ایک بحث کو بھی تقویت ملی وہ یہ کہ کیا اس طرح کے سائنسی اعتبار سے انتہائی اہم نموے عجائب گھروں اور سائنس دانوں کے لیے محفوظ رہنے چاہییں؟
یا پھر جیسا کہ نیلامی کرنے والے دلائل دیتے ہیں، کیا فوسل تلاش کرنے والوں کو ان ڈائنوسارز کی دریافت کا صلہ ملنا چاہیے جو سائنس کی نظروں سے اوجھل تھے اور جنھیں انھوں نے گویا دوسری مرتبہ معدوم ہونے سے بچایا؟
سوتھبیز میں قدرتی تاریخ کے عالمی شعبے کی سربراہ کیسینڈرا ہیٹن بخوبی جانتی ہیں کہ فوسل سائنس دان، یعنی قدیم جانوروں کے ماہرین، ان مخلوقات کی تلاش میں کس حد تک جا سکتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کھدائیوں کے دوران لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔‘
اور ان میں سے بہت سے شکاریوں کے لیے سب سے بڑا انعام ہی ٹی ریکس کی دریافت ہے۔
دریافت ہونے والی ہڈیوں میں گس کے پنجے کی ایک ہڈی (بائیں) اور پاؤں کی ایک ہڈی (دائیں) بھی شاملکیسینڈرا ہیٹن کہتی ہیں کہ ’ان فوسلز کو تلاش کرنے والے لوگ کئی کئی مہینے اپنے گھروں سے باہر دور دراز میدانوں میں رہتے ہیں، ان کے پاس خیمے ہوتے ہیں اور وہ سانپوں، کیڑوں اور شیروں کے درمیان قیام کرتے ہیں۔‘
گس امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا کے علاقے بیڈلینڈز سے ملا۔ تقریباً چھ کروڑ 70 لاکھ سال پہلے وہ اسی زمین پر گھومتا پھرتا تھا۔
ماہرِ قدیم حیوانات ڈاکٹر فیان سمتھوک گذشتہ 20 برس سے فوسلز جمع کرنے اور انھیں محفوظ رکھنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس فوسل کا ڈھونڈ لیا جانا نسبتاً آسان مرحلہ ہے تاہم زمین سے باہر نکالنے جانے پر ان کے گلنے سڑنے اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
فوسلز کو مکمل طور پر زمین سے نکالنے میں تین سال لگے، جبکہ ان کی دستاویز سازی اور دوبارہ جوڑنے کے عمل میں مزید تین سال صرف ہوئےڈائنوسارز کو دوسری معدومیت سے بچانے کی کوشش
سمتھوک کہتے ہیں کہ نمونے ضائع ہو جانے کا خطرہ صرف نجی خریداروں کے ساتھ ہی نہیں، عجائب گھروں میں بھی موجود ہوتا ہے۔
فوسلز جمع کرنے والی ابتدائی اور معروف شخصیات میں میری ایننگ بھی شامل تھیں۔ 1829 میں انھوں نے سکوالوراجا کا پہلا فوسل دریافت کیا تھا، جسے ’کرلنگ آئرن جیسی آنکھوں والی مچھلی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قدیم جاندار تھا جو شارک مچھلیوں اور ریز کے درمیان ارتقائی کڑی سمجھا جاتا ہے۔
اس کا ڈھانچہ برسٹل انسٹیٹیوٹ کو عطیہ کر دیا گیا تھا، لیکن ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد دوسری عالمی جنگ کے دوران بمباری میں تباہ ہو گیا۔
تاہم فوسلز جمع کرنے والے، عجائب گھر کے سائنس دان اور نیلام کار، سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ان پیشہ ور فوسل تلاش کرنے والوں کی مہارت اور محنت نہ ہوتی تو نہ تو یہ نمونے دستیاب ہوتے اور نہ ہی اتنی سائنسی دریافتیں ممکن ہوتیں۔
سوتھبیز کی کیسینڈرا ہیٹن کہتی ہیں کہ ’یہ لوگ ڈائنوسارز کو دوسری بار معدوم ہونے سے بچا رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر سمتھوک کہتے ہیں کہ ’علمِ قدیم حیاتیات کے وسیع تناظر میں بے شمار ایسے نمونے موجود ہیں جو سائنسی اعتبار سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اور آپ ساحل پر لوگوں کو بچوں کے ہاتھ امونائٹس فروخت کرتے دیکھتے ہیں، جو بیرونی دنیا میں تجسس اور دلچسپی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔‘