دہلی میں 19 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک کی حالت تشویشناک

سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی اور اس وقت سے اب تک ان کا وزن تقریباً 9 کلو گرام کم ہو چکا ہے۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں، فنکاروں اور ادیبوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن وانگچک نے ابھی تک اس سے گریز کیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام علاقے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم وانگچُک اس وقت دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری ایک احتجاج کا حصہ ہیں اور وہ اپنی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی اور اس وقت سے اب تک ان کا وزن تقریباً نو کلو گرام کم ہو چکا ہے۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں، فنکاروں اور ادیبوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن وانگچک نے ابھی تک اس سے گریز کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ایک پی آئی ایل پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت کی روزانہ نگرانی کی جانی چاہیے کیونکہ 'ہر ایک شہری کی جان قیمتی ہے۔'

گذشتہ دنوں انڈیا کے اہم مقابلہ جاتی امتحانات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کے بعد نوجوانوں کی ایک خود ساختہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اس کے خلاف احتجاج شروع کیا اور وہ راتوں رات مقبول ہو گئی۔ اس پارٹی کے جاری احتجاج میں سونم وانگچک نے شمولیت اختیار کی اور ان کی مانگوں کو لے کر بھوک ہڑتال شروع کر دیا۔

ان کے ساتھ پانچ، چھ دوسرے سٹوڈنٹس بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے امتحانات میں شفافیت لانے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں سے تین کی حالت نازک ہونے کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایک طالبہ کے ساتھ دو اور سٹوڈنٹس بھوک ہڑتال پر موجود ہیں۔

دھرنے پر بیٹھے سٹوڈنٹس کا مؤقف

وانگچک کے ساتھ 19 دنوں سے دھرنے پر بیٹھے طالب علم منیش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'متعدد مقامات پر مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہوئے۔ سب سے بڑا معاملہ میڈیکل میں داخلے کے امتحانات نیٹ کا تھا جس کی وجہ سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ بچوں نے خودکشی کر لی اور لاکھوں گھرانے اس سے متاثر ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے۔'

الہ آباد یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے منیش نے مزید کہا کہ 'سرکاری یونیورسٹیوں کو برباد کیا جا رہا ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی فیس 500 روپے تھی جو اب بڑھا کر 20 ہزار کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کے فنڈز میں کٹوتی کی جا رہی۔'

انھوں نے کہا: 'ہم لوگ دھرنے پر بیٹھے ہی تھے کہ مدھیہ پردیش میں پیپر لیک ہو گیا، مہاراشٹر اور جے پور میں پرچے لیک ہوگئے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو افسران لیکس میں ملوث پائے جائيں ان کے خلاف سخت کارروائی ہو۔'

سٹوڈنٹس میں اس صورت حال پر بہت تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

ان کے ساتھ ہی دھرنے پر بیٹھی جے این یو کی طالبہ نیہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آج نیشنل ایجوکیشن پالیسی متعارف کرا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی تعلیمی پالیسی 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس میں حکومت کی جوابدہی کو ختم کر دیا گیا اور یہ ایک ایسے ماحول کی آبیاری کرتا ہے جہاں بدعنوانی اور پرچے لیک ہوں۔'

کاکروچ جنتا پارٹی بنانے والے ابھیجیت دیپکے نے کہا: 'ہم احتجاج تو جاری رکھیں گے، لیکن اس وقت ہمیں سب سے زیادہ فکر سونم سر کی صحت کی ہے۔ انھیں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے اب 18 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ انھیں اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ ’مجھ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے مت کہیے، حکومت سے پوچھیے کہ وہ ہماری بات سننے کے لیے کیوں تیار نہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کسی قسم کی پہل نہیں کی گئی، اور یہ واقعی بہت افسوس ناک بات ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ حکومت اتنی بے حس کیوں بنی ہوئی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟'

وانگچک کی بھوک ہڑتال کا انّا ہزارے سے موازنہ

دریں اثنا وانگچک کی بھوک ہڑتال کا موازنہ سنہ 2011 کے انّا ہزارے اور اروند کیجریوال کی بھوک ہڑتال سے کیا جا رہا ہے۔ پہلے حزب اختلاف کے رہنما اور بالی وڈ کی مختلف مشہور شخصیات انّا ہزارے کی حمایت میں احتجاجی مقام انڈیا گیٹ پر نظر آئے تھے، لیکن اس بار جنتر منتر پر جاری احتجاج میں ایسا کوئی منظر نظر نہیں آ رہا ہے۔

پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپوزیشن میں تھی، جب کہ کانگریس کے اتحاد والی جماعتیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں حکومت میں تھیں۔

اب بی جے پی مرکز میں بر سر اقتدار ہے اور بہت سے لوگ لوک سبھا (ایوان زیریں) میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی سے سوال کر رہے ہیں کہ انھوں نے اس بھوک ہڑتال سے دوری کیوں اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ وہ ان معاملوں پر کھل کر بولتے رہے ہیں جن پر ملک کے نوجوان اب احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا عام آدمی پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو جنتر پہنچ رہے ہیں۔

سونم وانگچک
Getty Images
اس سے قبل بھی سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کی تھی اور حکومت کو انھیں رہا کرنا پڑا تھا

وانگچک کون ہیں؟

59 سالہ سونم وانگچک پیشے سے انجینئر اور ماہرِ تعلیم ہیں اور وہ دنیا بھر میں ماحولیاتی اور سماجی کارکن کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیمی اصلاحات، پائیدار ترقی اور ہمالیائی علاقوں کے ماحول کے تحفظ کے لیے وقف کیا ہے۔

انھیں بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان حاصل ہے، جبکہ بالی وڈ کی مشہور فلم 'تھری ایڈیٹس' کے کردار پھونسک وانگڑو کی تحریک بھی بہت حد تک ان کی شخصیت سے منسوب کی جاتی ہے۔

سنہ 2018 میں انھیں گرانقدر ریمون میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جسے ایشیا میں نوبل انعام کا مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں ان کی اختراعات کے لیے ایک درجن سے زیادہ ایوارڈز مل چکے ہیں۔

وہ سیکمول کیمپس (جو مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلتا ہے) کی بنیاد رکھنے اور آئس سٹوپا مصنوعی گلیشیئر جیسی ماحولیاتی اختراعات کے لیے بڑے پیمانے پر پہچانے جاتے ہیں، جو پانی ذخیرہ کرنے والی پہاڑی آبادیوں کی مدد کرتا ہے۔

وہ لداخ کی نازک ماحولیات اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے بڑے مدعی ہیں اور اکثر اعلیٰ سطح کے ماحولیاتی اور سیاسی مظاہروں میں پیش پیش نظر آئے ہیں، جس میں لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور قبائلی تحفظات کی وکالت کرنے والی بھوک ہڑتالیں بھی شامل ہیں۔

گذشتہ سال سونم وانگچک کو ستمبر میں انڈین حکام نے لداخ میں مہلک، پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار کر لیا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے انھیں سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت احتیاطی حراست میں رکھا۔ ان پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام لگایا جس نے ہجوم کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم پر اکسایا۔

حکام نے پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹرز سے مبینہ روابط اور اس کے تعلیمی ادارے کی جانب سے فنڈنگ کی خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیا۔

وانگچک اور ان کے حامیوں نے مسلسل ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہا ہے کہ وہ خطے کے لیے ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول کے تحفظات کے حوالے سے پرامن احتجاج کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ تقریباً 170 دنوں تک جیل میں بھی رہے۔ پھر وزیر اعظم مودی کی مرکزی حکومت نے ان پر لگے الزامات کو مسترد کر دیا اور مارچ 2026 میں انھیں رہا کر دیا۔

اب وانگچک 28 جون 2026 سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

سی جے پی کیا ہے اور ان کا مطالبہ کیا ہے؟

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) ایک طنزیہ آن لائن تحریک کے طور پر سامنے آئی تھی۔ اس کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔ انھوں نے دو ماہ قبل انڈیا کے چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی بنائی جس میں چیف جسٹس نے مبینہ طور پر حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو 'کاکروچ' کہا تھا۔

سی جے پی نوجوانوں پر مشتمل ایک تحریک ہے جس کی قیادت ابھیجیت دیپکے کر رہے ہیں۔ اس تحریک کا مؤقف ہے کہ اہم ملکی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیاں ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہیں، اور اس مسئلے پر حکومت کی جانب سے خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا ہے۔ احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کے باوجود حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے باضابطہ بات چیت کے لیے نہیں آیا۔

دریں اثنا ہماری نمائندہ غافرہ قادر نے جنتر منتر کا دورہ کیا اور سونم وانگچک سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی صحت انھیں بات چیت کی اجازت نہیں دیتی۔

صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے باوجود انھوں نے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ بھوک ہڑتال کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات سننے اور ان سے مکالمہ کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں۔

اس احتجاج کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی حلقوں سے خاصی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنماؤں، جن میں اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے اور اکھلیش یادو شامل ہیں، نے وانگچک سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے، اگرچہ ان میں سے اکثر نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

ادبی اور فنی حلقوں سے بھی حمایت سامنے آئی ہے۔ بکر انعام سے سرفراز معروف ادیبہ اروندھتی رائے، معروف بالی وڈ اداکار نصیرالدین شاہ، ان کی اہلیہ رتنا پاٹھک اور ماہرِ معاشیات جیوتی گھوش سمیت کئی ممتاز شخصیات نے احتجاج کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے وانگچک اور دیگر بھوک ہڑتالی مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صحت کی خاطر احتجاج ختم کرنے پر غور کریں۔

اداکار اومی ویدیا، جو فلم 3 ایڈیٹس میں 'چتُر' کے کردار کے لیے مشہور ہوئے، انھوں نے وانگچک کی حمایت کرتے ہوئے ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ سوارا بھاسکر، ابھے دیول، عائشہ خان اور دیگر فنکاروں نے بھی احتجاج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یوں سونم وانگچک اور چھ طلبہ کی بھوک ہڑتال محض چند افراد کا احتجاج نہیں بلکہ یہ ملک کے تعلیمی نظام، طلبہ کے حقوق، حکومتی جوابدہی اور جمہوری مکالمے کے سوالات سے جڑی ایک وسیع تر بحث کی علامت بن گئی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US