انڈیا کے سرکاری جوہری ادارے نے کوڈن کولم جوہری پاور پلانٹ کے لیک ہونے والے ڈیٹا سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظر عام پر آنے والی معلومات میں جوہری تحفظ یا سکیورٹی سے متعلق تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

انڈیا کے سرکاری جوہری ادارے نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ نے کوڈن کولم جوہری پاور پلانٹ کے لیک ہونے والے ڈیٹا سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظر عام پر آنے والی معلومات میں جوہری تحفظ یا سکیورٹی سے متعلق تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں نیوکلئیر پلانٹ کے بارے میں جس معلومات کے لیک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ’کامن سروس فیسیلیٹیز‘ کی تعمیر اور اس کے لیے سامان کی خریداری وغیرہ سے متعلق ہے۔
بیان کے مطابق یہ ’فیسیلیٹی‘ روایتی نوعیت کی ہے، جو تھرمل پاور پلانٹ اور اس طرح کی دوسری صنعتی تنصیبات میں بھی بنائی جاتی ہیں۔
انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن کا یہ وضاحتی بیانایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ہیکر گروپ’ورلڈ لیکس‘ کی جانب سے انڈیا کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کوڈن کولم سے متعلق تقریبآ 19 ہزار ڈیٹیجل فائلیں چوری کرنے اور انھیں ڈارک ویب پر شیئر کرنے کے حوالے سے خبر شائع کی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ لیکس کی ویب سائٹپر شائع ان معلومات میں جوہری پلانٹ کے وینٹی لیٹر کا خاکہ اور کنٹرول روم کا نقشہ بھی شامل ہے۔
لیک ہونے والی فائلوں میں مبینہ طور پر زیر تعیمر یونٹ کے سے متعلق وینڈرز اور پلانٹ آپریٹرز اور ریلائنز کمپنی کے انجنیئروں کے جوائنٹ انسپیکشن کے ریکارڈ اور ایکوئپمنٹ کے فوٹو بھی شامل ہیں۔

انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے جوہری پلانٹ سے متعلق خدشات کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم جوہری ماہرین نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس طرح کا ڈیٹا لیک ہونے سے پاور پلانٹ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں اس سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ پاور پلانٹ کا یہ ڈیٹا دراصل چوری کہاں سے ہوا ہے؟
ڈیٹا کی چوری
ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ فائلیں نجی صنعتی گروپ ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور سے چوری کی ہیں۔
اس کمپنی کو کوڈن کولم جوہری پلانٹ کی تیسرے اور چوتھے یونٹ میں پلانٹ کی تعمیرات اور انجینئرنگ سے متعلق کام کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
ریلائنس گروپ نے روئٹرز کو اپنے سرور کے ہیک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بارے میں کمپنی نے سرور فراہم کرنے والی کمپنی کو جون میں اطلاع دے دی تھی۔
دوسری جانب انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’ریلائنس انفراسٹرکچر کو جو ٹھیکہ دیا گیا تھا اس میں انجینئیرنگ ورک، سامان کی خریداری اور کامن فیسیلیٹیز کی تعمیر شامل ہیں۔ ان فیسیلیٹیز کا کوئی تعلق جوہری سیکورٹی اور سیفٹی سے نہیں ہے۔‘
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے سائبر سکیورٹی اداروں نے جوہری پلانٹ سے متعلق ڈیٹا کے لیک ہونے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سکیورٹی خدشات
انڈیا کے سرکاری ادارے نے کوڈن کولم پاور پلانٹ کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو مسترد کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات جوہری مرکز کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس سے منسلک نیوکلیئر پاور سیفٹی کے ڈائریکٹر ایڈون لیمن نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار روحان احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ واقعی کسی جوہری تنصیب کے بلیو پرنٹس (نقشے) ہیں، جن میں آلات، پائپ لائنوں، کیبلز، دروازوں اور دیگر اندرونی تفصیلات کی نشاندہی کی گئی ہے تو یہ حملہ آوروں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عام طور پر ایسی معلومات عوامی دسترس سے دور رکھی جاتی ہیں۔‘
پرنسٹن یونیورسٹی میں پروگرام آن سائنس اینڈ گلوبل سکیورٹی کے شریک ڈائریکٹر فرینک این وون ہیپل بھی ایڈون لیمن سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’اگر آپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ اس تنصیب پر زمینی حملہ کیا جا سکتا ہے، تو اس کے بلیو پرنٹس (نقشے)، خصوصاً وہ جن میں کولنگ سسٹم اور ہنگامی کولنگ نظام کی تفصیلات شامل ہوں، خاص طور پر حساس اور تشویش کا باعث معلومات سمجھی جائیں گی۔‘
جوہری پاور پلانٹ کہاں واقع ہے؟
کوڈن کولم نیوکلیئر پلانٹ انڈین ریاست تمل ناڈو کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور یہ ملک کے سات جوہری پاور پلانٹس میں سے سب بڑا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہے۔
یہ روس کی ایک اٹامک کمپنی کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں ایک، ایک ہزار میگا واٹ کے چھ یونٹس ہیں، جن میں سے دو یونٹس پہلے سے کام کر رہے ہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے یونٹس زیر تعمیر ہیں۔
اس پلانٹ کے تیسرے اور چوتھے یونٹ 33849 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ پانچویںاور چٹھے یونٹس کے لیے 49621 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انڈین ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابقدسمبر 2025 میں روسی کمپنی راس ایٹم نے تیسرے یونٹ کے لیے ایندھن بھی فراہم کر دیا ہے۔
انڈیا ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار کے لیے جوہری بجلی پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
اس وقت ملک کے سات جوہری بجلی پلانٹس کے 25ری ایکٹروں سے 8880 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور آنے والے برسوں میں جوہری بجلی کی پیداور تین گنا کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
انڈیا نے 2025 -26 کے بجٹ میں بھی نیوکلیئر انرجی مشن کا اعلان کیا تھا۔
اس طویل مدتی پلان کےتحت 2047 تک جوہری بجلی کی پیداوار 100 گیگا واٹ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔