آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی مالی سال 2022-23 سے 2025 تک کی آڈٹ رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں، جن میں کمپنی کی ریکوری، بلنگ اور خریداری کے نظام میں متعدد بے ضابطگیوں اور مالی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق فیسکو توانائی کے نادہندگان سے تقریباً 82 ارب روپے کی وصولیاں کرنے میں ناکام رہی، جبکہ ڈیفرڈ رقوم کی مد میں بھی 80 کروڑ روپے کی ریکوری نہ ہو سکی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اے ایم آئی میٹرنگ پراجیکٹ پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جبکہ خریداری کے عمل میں 67 کروڑ روپے سے زائد کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق فیسکو نے غیر ضروری چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے صارفین سے 24 کروڑ روپے سے زائد اضافی وصول کیے۔ آڈٹ میں نیپرا قوانین کی خلاف ورزیوں اور بلنگ کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق شہریوں سے 18 کروڑ روپے کی نیگیٹو فگرز اور اوور بلنگ کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ فیسکو نے سرکاری اداروں کو بھی اضافی بل بھیجے، جن کی مجموعی مالیت 3 کروڑ 48 لاکھ روپے بنتی ہے۔
مزید برآں، چارجنگ، میٹر رینٹل اور غیر ضروری ریونیو جنریشن کی مد میں 9 کروڑ روپے سے زائد، جبکہ یونٹس ایڈجسٹمنٹ کے معاملے میں 36 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹس میں سامنے آنے والے ان انکشافات نے فیسکو کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، حالانکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں فیسکو کو طویل عرصے سے بہتر کارکردگی کا حامل ادارہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ رپورٹس میں نشاندہی کی گئی بے ضابطگیوں کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے اصلاحی اقدامات اور ذمہ داروں کے تعین پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔