بھیکاریوں نے کراچی والوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ جب باہر نکلو کوئی نہ کوئی اپنا ٹوٹا ہوا ہاتھ، پیر یا جلا ہوا منہ دکھاتے ہوئے پہنچ جاتا ہے اور اپنے پورے ٹولے کو بھی ساتھ لے کر گھومتا ہے تاکہ سب کے سب اپنی جیب گرم کرکے ہی وہاں سے جائیں۔ اتنے دُکھ تو زمانے میں اور نہیں ہیں جتنے ان بھیکاریوں نے اپنے ساتھ جھوٹ کے طور پر پیدا کر رکھے ہیں۔
اسی حوالے سے کراچی میں ظفر عباس کی رہنمائی میں اب بھیک دینا بدن رکو مہم شروق کردی گئی ہے جس میں لوگوں نے گاڑیوں کے پیچھے بھی ہیش ٹیگ بھیک دینا بند کرو، ہیش ٹیگ بھیک مانگنا بند کرو کے ٹیگز لگا رکھے ہیں۔
کراچی کے بھیکاری سالانہ لاکھوں اور کچھ تو اس سے زیاہد روپے بھی کماتے ہیں اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی گاڑیوں میں آ کر ایسے پھٹے پرانے کپڑوں میں رونا پیٹنا شروع کرتے ہیں کہ ایک عام کمانے والا بیچارہ ان کی بیچارگی کو سچ سمجھ بیٹھتا ہے.
اس مرتبہ ان سفید پوش لوگوں کی مدد کریں جو آپ کی مدد کے منتظر ہیں لیکن اپنی عزت اور گھر والوں کی بھلائی کی خاطر کھلے عام کسی سے مانگتے نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو تلاش کریں اور ان کی مدد کریں۔