سعدیہ سہیل پنجاب کی ایم پی اے ہیں جو اکثر اپنی یوٹیوب کی ویڈیوز میں ایسے واقعات اور قصے سناتی ہیں کہ ان سان کی عقل حیران رہ جاتی ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ ایسا کیا ہوا اور یہ ہو بھی سکتا ہے یا نہیں جیسے پچھلے دنوں انہوں نے بتایا تھا کہ جب مں حرمِ پاک گئی تو وہاں ایک جنازہ ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور پھر انہوں نے مشہور زمانہ عالم آن لائن کے شو کا ایک واقعہ بتایا کہ ایک خاتون حرم گئی تو اس کو کعبہ ہی نظر نہ آیا اس قسم کے واقعات اور مختلف وظیفوں کو بتانے کے حوالے سے سعدیہ بہت مشہور ہیں۔
سعدیہ سہیل اس مرتبہ اپنی ویڈیو میں بتا رہی ہیں کہ جب ان کے کچھ ساتھیوں کو 10 دن جیل میں ڈالا گیا تو ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟ جیل کیسی تھی؟ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ مجھے اس جگہ رکھا گیا تھا جہاں لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے۔ وہ جگہ اس قدر بند اور چھوٹی سی تھی کہ دیکھ کر قبر کا احساس ہو رہا تھا کیونکہ قبر بہت چھوٹی سی اور بند ہوتی ہے جس میں گھٹن بھی زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس جیل میں گزارے گئے 10 دن انتہائی اذیت ناک تھے اور اس میں ہمیں ایسا لگا جیسے روحیں ہم سے مخاطب ہے ان مرے ہوئے لوگوں کی جن کو جیل میں بھانسی دی گئی۔ ان کی پھانسی میں اگر ان کو کوئی قصور تھا تو وہ غریب ہونا یا انصاف کا پختہ نہ ہونا۔
سعدیہ سہیل نے بتایا کہ وہاں ایسا لگتا ہے کہ جیسے روحیں ہم سے سوال کر رہی ہیں ہمیں کس وجہ سے مارا گیا کیا انصاف آج بھی ہماری جانوں سے بڑھ کر ہے۔ لیکن سب کے امر ان کے ساتھ جائیں گے اس لیے انسان کو یہ سوچ کر اپنی زندگی میں قدم اٹھانا چاہیے کہ وہ بعد میں کسی کے لیے تکلیف نہ بنے۔