بیٹیاں اپنے والد کے دل کی شہزادیاں ہوتی ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن جب باپ ہی دنیا میں نہ رہے تو بیٹیوں کا سب سے بڑا سہارا چھن جاتا ہے۔ شہید کانسٹبل وحید پچھلے سال ملک دشمنوں کے خلاف ایک محاظ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کی بیٹی ہمیشہ سے ہی پولیس والوں کی بہت عزت کرتی تھی اور سب کا خوشی سے استقبال کرتی تھیں۔
لیکن کل رات کے وقت آنے والے شدید زلزلے کے جھٹکوں کا خوف ثمن کے دماغ پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ جاں بحق ہوگئی۔ ثمن کے والد کے دوستوں نے اس سے متعلق ویڈیو اور معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور بتایا کہ ثمن ایک خوش مزاج بچی تھی اس نے اپنے والد کے دنیا سے جانے کے بعد بھی ہمیشہ ہر فوجی کو خوشی سے اپنے گھر مدعو کیا۔ لیکن یہ زلزلے کا خوف برداشت نہ کر سکی اور اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
ثمن اپنے والد کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور باپ کے دنیا سے جانے کے بعد ہمیشہ ان سے یہی کہتی رہتی کہ بابا اللہ سے دعا کرنا، مجھے بھی جنت میں بُلا لینا۔ میں ڈرتی ہوں جہنم اور اس کی تباہ کاریوں سے۔۔