خانہ کعبہ جانے کا اصل مقصد اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اللہ کو راضی کرنا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ خوش بختی کسی مسلمان کو زندگی میں ایک بار ہی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس موقع پر بھی لوگوں کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھنے کے بجائے اکثر تصویریں بناتے ہی گزرتے ہیں۔
یہ وقت موبائل نہیں عبادت کے لئے ہاتھ اٹھانے کا ہے
گزشتہ روز اس ایک فوٹوگرافر کی جانب سے لی گئی اس تصویر کے وائرل ہوتے ہی صارفین بھی غصے میں آگئے۔ ان کا موقف تھا کہ خانہ کعبہ کی حرمت کا تقاضہ یہی ہے کہ وہاں جا کر دنیاوی چیزوں کی طرف مائل نہ رہا جائے بلکہ اللہ سے لو لگائی جائے۔ وہاں جانے والے خوش نصیب ہیں لیکن بڑی تعداد میں ہاتھوں میں موبائل اٹھا کر تصویریں کھینچنا کچھ بلا نہیں محسوس ہورہا۔
سعودی عرب کی وزارت حج کا نیا اعلامیہ
دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت حج نے بھی اس تصویر کا نوٹس لیتے ہوئے عازمین حج و عمرہ کے لئے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے اگرچہ مقدس مقامات کی تصاویر لینا ہر شخص کا حق ہے پھر بھی ان 3 باتوں کا خیال رکھا جائے کہ دوسروں کی تصویریں ان کی مرضی کے بغیر نہ لی جائیں، نماز کے دوران کسی کی تصویر نہ بنائی جائے اور عبادت کے دوران کسی کو تنگ نہ کیا جائے۔