اقرارالحسن اور وسیم بادامی دونوں پاکستانی صحافت کے دو بڑے نام ہیں۔ یہ دونوں وہ مشہور اینکر ہیں جن کو نجی ٹی وی چینل نے کسی زمانے میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ میں سے منتخب کیا تھا۔ اقرار الحسن کا شو سرِعام پاکستان بھر کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جانے والا ایسا شو ہے جس کی ریٹننگ دوسرے شوز سے زیادہ ہے۔
اپنی ویڈیو میں اقرار نے ماہانہ تنخواہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور وسیم بادامی کو ایک ساتھ چنا گیا تھا وہ کراچی سے بطور اینکر منتخب ہوئے اور میں لاہور سے۔۔ ہم دونوں نے کیرئر ایک ساتھ شروع کیا ہر جگہ ساتھ گئے، ساتھ رہے۔ وسیم کو ایک الگ شو مجھ سے پہلے مل گیا تھا اور مجھے کچھ وقت بعد ۔۔ ہم نے اپنے کام سے دلجوئی کی اور اتنی محنت کی کہ صحافت کو ایک نیا رنگ دے دیا۔
اقرار نے بتایا کہ کچھ سال قبل ایک نجی ٹی وی ابھی لانچ بھی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے مجھے اور وسیم کو مہینہ 1 کروڑ روپے کی آفر دی جس پر وسیم چلے گئے لیکن میں اے آر وائی کا ہی حصہ رہا اس وقت میرے والد نے مجھے کہا کہ بیٹا اگر تم جانے کا ارادہ کر رہے ہو تو سوچ لو میں یہ نہیں سننا چاہتا کہ میرا بیٹا بھی بک گیا ہے۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے بول نہیں جانا چاہیے۔ جب جب بول آن ایئر نہیں ہوا تھا کچھ ہی وقت بعد بول پر مقدمہ ہوا اور وہ تمام معاملات ہوئے کہ چینل آن ایئر نہ ہوسکا۔ مجھے سلمان اقبال نے کہا کہ دوست ہی دوست کی بات مانتا ہے آپ وسیم سے بات کریں ۔۔ وہاں میری اور وسیم کی فون پر بات ہوئی، اس کے بعد وسیم کو اے آر وائی کی جانب سے ایکا چھے پیکج پر بلا لیا گیا۔
میری تنخواہ بڑھائی نہیں گئی اس وقت میں نے مذاق میں کہا کہ گھر کا ایک بچہ چھوڑ کر چلا گیا اس کو بُلایا گیا عزت دار طریقے سے اور جو مخلص رہا اس کے لیے کچھ بھی نہ کیا گیا۔ بہرحال اس بات کے 3 ماہ بعد چینل انتظامیہ میرے پاس آئی اور مجھے ایک چیک دیا گیا اور کہا گیا کہ سلمان خود آپ کو یہ چیک دینا چاہتے تھے لیکن وہ آ نہ سکے۔ بہرحال یہی ایک وجہ ہے کہ میں اس چینل سے نہیں جاتا اور نہ تبدیل کرتا۔