اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلیں بحال کر دی ہیں جبکہ ان کی ضمانت کی درخواست بھی منظور کر لی گئی ہے۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔دورانِ سماعت پراسیکیوٹر جنرل نیب نے موقف اپنایا کہ ’اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، عدم پیروی پر بھی خارج نہیں ہو سکتی۔ اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انہیں میرٹس پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔‘انہوں نے کہا کہ ’عدالت نے کہا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ ہمیں نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر اشتہاری نے عدالت کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے تو ان کی اپیل بحال ہونی چاہیے۔‘پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ’اگر اپیلیں بحال ہوں گی تو ہم اس پر دلائل دیں گے۔‘ جس پر جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ کیا’ آپ فیصلے کے حق میں دلائل دیں گے؟‘
نواز شریف کی گرفتاری نہیں چاہتے :پراسیکیوٹر جنرل
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’ابھی ہمارے سامنے اپیل نہیں، صرف بحالی کی درخواستیں ہیں۔‘انہوں نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ اپیل کنندہ کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟‘جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں گرفتاری نہیں چاہیے۔‘سماعت کے بعد عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا جسے بعدازاں سناتے ہوئے نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال کر دیں۔عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔یاد رہے کہ منگل کو نواز شریف نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کیا تھا جس کے بعد عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کی تھی۔علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی وجہ سے نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہو سکے تھے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ان کی اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی تھیں۔سال 2020 میں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کالعدم قرار دے کر نیب ریفرنس سے باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا.جبکہ عدالت نے نواز شریف کی اپیلیں ان کے اشتہاری ہونے کے باعث خارج کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے انہیں گرفتار کریں یا وہ سرینڈر کر دیں تو اپیلیں بحال کرانے کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔