پاکستان صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں چوری کا انوکھا واقعہ پیش آیا جب راتوں رات وادی کیلاش ایک شخص کے گودام سے 200 لیٹر دیسی شراب نامعلوم افراد لے اڑے۔
یہ واقعہ اتوار کو بریر گاؤں میں پیش آیا۔متاثرہ شہری فضل اعظم نے کہا ہے کہ کیلاش فیسٹول چوموس کے لیے انگور سے مقامی مشروب( شراب) تیار کیا تھا جو اب اپنی جگہ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ گاؤں میں ہر جگہ ملزمان کی تلاش جاری ہے تاہم تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔‘’اگر ملوث افراد نے 10 دنوں کے اندر شراب واپس کر کے معافی نہ مانگی تو قبیلے والے مل کر اسے بددعا دیں گے جبکہ دیگر کارروائی بھی کی جائے گی۔‘مقامی نوجوان عجب کالاش نے اردو نیوز کو بتایا کہ شراب کالاش قبیلے کے ثقافت کا اہم حصہ ہے جس کا استعمال مختلف رسومات کی ادائیگی کے دوران مقامی باشندے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’کیلاش میں ہونے والے فیسٹول سے قبل شراب سٹور کرکے رکھی جاتی ہے۔‘متاثرہ شہری فضل اعظم نے کہا ہے کہ کیلاش فیسٹول چوموس کے لیے انگور سے مقامی مشروب تیار کیا تھا۔’ہمارے عقائد کے مطابق جو شخص ہمیں ضرر پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، قبیلے کے تمام افراد مل کر اسے اجتماعی بددعا دیتے ہیں جس کے بہت خوفناک نتائج ہوتے ہیں۔‘’اکثر ایسے واقعات میں ملوث شخص کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔‘واضح رہے کہ چترال کی کیلاش وادی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کیلاشی باشندے آباد ہیں جو اپنی مذہبی رسومات یا فیسٹولز میں شراب کا استعمال کرتے ہیں۔