ہوا کا کم دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان، الرٹ جاری

image

ہوا کا کم دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

بھارت کے رن آف کچھ پر ڈیپ ڈپریشن اور شمال مشرقی بحیرہ عرب میں ممکنہ سمندری طوفان کے باعث محکمہ موسمیات نے ٹروپیکل سائیکلون الرٹ جاری کر دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ڈیپ ڈپریشن(ڈی ڈی، بہت مضبوط کم دباؤ کا علاقہ) رن آف کچھ، ہندوستان کے اوپر پچھلے 12 گھنٹوں کے دوران بہت آہستہ آہستہ مغرب اور جنوب مغرب میں منتقل ہوا، اب یہ کراچی کے جنوب مشرق میں تقریبا 250 کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے۔

میرپور خاص میں بارش نے تباہی مچا دی، سندھ میں بارش کا سلسلہ جاری

امکان ہے کہ یہ نظام مغرب اور جنوب مغرب کی طرف بڑھے گا جبکہ آئندہ12گھنٹوں میں سندھ کے ساحل کے ساتھ شمال مشرقی بحیرہ عرب میں پہنچے گا۔

سازگار ماحولیاتی حالات، سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اور بالائی سطح کے ڈائیورژن کی وجہ سے، یہ نظام کل تک مزید شدت اختیار کر کے ایک سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

سائیکلونک طوفان کے ابتدائی طور پر مغرب اور جنوب مغربی سمت بڑھنے کا امکان ہے جس کے زیر اثر کراچی ڈویژن، تھرپارکر، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، جامشورو، دادو میں 31 اگست تک آندھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ہونے کی پیشگوئی

تقریبا 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواں کے ساتھ سمندر ناہموار اور بہت ناہموار رہنے کا امکان ہے، ماہی گیروں کو 31 اگست تک سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات سائیکلون وارننگ سینٹر اور کراچی سسٹم کی نگرانی کر رہا ہے، متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری کے ذریعے باخبر رہیں۔بحیرہ عرب میں طوفان بننے کے بعد اسے اسنا کا نام دیا جائے گا جو پاکستان کا تجویز کردہ ہے، اسنا کے معنی بلند تر کے ہیں۔

دوسری جانب چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ ہواکاکم دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کاامکان ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہواکا کم دباؤ کراچی سے 250کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں ہے،اگر ہواکا کم دباؤ سمندر میں داخل ہوا تو سمندری طوفان بن جائے گا۔


News Source   News Source Text

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US