"بچیوں نے گھر کے قریب ایک فوڈ پوائنٹ سے لوڈڈ فرائز خریدے، انہیں کھانے کے بعد شدید قے ہوئی جس سے ڈی ہائیڈریشن ہوا، قریبی اسپتال میں بروقت اور درست علاج نہ ہونے کے باعث دونوں کی جان نہ بچ سکی۔"
لاہور میں دو معصوم بچیوں کی جان لینے والا سانحہ پورے شہر کو سوگوار کر گیا۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید نے اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کمسن بچیوں نے گھر کے قریب ایک ریسٹورنٹ سے فرائز خریدے تھے، مگر وہ چند نوالے ہی ان کی زندگی کی آخری خوراک ثابت ہوئے۔
انہوں نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کھانے کے فوراً بعد بچیوں کی طبیعت خراب ہوگئی، بار بار قے کے باعث جسم میں پانی کی شدید کمی ہوگئی۔ بدقسمتی سے قریبی اسپتال میں بروقت اور درست علاج نہ ہونے سے تحریم اور ارحا زندگی کی بازی ہار گئیں۔
عاصم جاوید نے اس موقع پر خبردار کیا کہ ایسے واقعات خصوصاً گرمی اور حبس کے موسم میں زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ باسی کیچپ یا سوس میں جراثیم تیزی سے بڑھتے ہیں جو فوڈ پوائزننگ اور جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
واقعے کے بعد فوڈ پوائنٹ کے مالک اور منیجر کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ غفلت برتنے والے متعلقہ افسر کو معطل کرکے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس نے بچیوں کے والد عظیم کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب بچیوں کے والد نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ بچیوں کے لئے موت خرید کر لے جارہا ہے۔ رات کو اچانک بچوں کی ضد پر اس نے لوڈڈ فرائز خریدے جنھیں کھا کر اگلی صبح سب سے چھوٹی بیٹی انتقال کرگئی جبکہ کچھ دیر بعد ٦ برس کی بڑی بیٹی بھی اللہ کو پیاری ہوگئی۔ مرنے سے پہلے وہ بار بار پانی مانگتی رہی جبکہ اسپتال کے عملے نے بھی علاج میں سستی دکھائی۔ والد کا کہنا تھا کہ گھر کے باہر کے کھانے بچوں کو ہر گز نہ دیں کیونکہ ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ سولہ اگست کی رات فیملی نے کھانا کھایا تھا، جس کے بعد دونوں بیٹیوں اور ایک بیٹے کی طبیعت بگڑ گئی۔ قہربناک لمحہ تب آیا جب چھ سالہ تحریم اور چار سالہ ارحا جان کی بازی ہار گئیں۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ چند روز قبل حافظ آباد میں بھی مبینہ طور پر شوارما کھانے سے تین فیملیز کے نو افراد بیمار ہوگئے تھے، جس پر فوڈ اتھارٹی نے فوری کارروائی کی تھی۔