خیبر پختونخوا اسمبلی : مختلف ایشوز پر اپوزیشن اراکین یک زبان

image

خیبر پختونخوا اسمبلی میں سرکاری ریسٹ ہاؤس کی کم آمدنی وممبران کے لیے عدم بکنگ کیخلاف اور فاٹا ہاؤس کی صوبے کو حوالگی کے لیے اپوزیشن اراکین یک زبان ہوگئے۔ حکومتی اراکین کی لاعلمی کے باعث سوال کمیٹی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

منگل کے روز اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران جے یو آئی رکن عدنان خان نے سوال کیا کہ گورنمنٹ ریسٹ ہاؤسز کی آمدنی کتنی ہے؟ افسوس کامقام ہے کہ ریسٹ ہاؤس فہرست میں فاٹا ہاؤس شامل ہی نہیں۔

حکومتی جواب میں بتایا گیا کہ شاہی مہمان خانہ کی جنوری کی آمدنی دو لاکھ 84 ہزار، فروری کی ایک لاکھ 24 ہزار، کے پی ہاؤس اسلام آباد کی جنوری میں آمدن 18 لاکھ 34 ہزار اور فروری میں آمدن 15 لاکھ دو ہزار، کے پی ہاؤس ایبٹ آباد کی جنوری میں آمدن سات ہزار اور فروری میں اٹھارہ سو روپے ہے۔ انہوں نے کہا ریونیو کو آگے بڑھایا جائے اس کے علاوہ فاٹا ہاؤس کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ریحانہ اسماعیل نے کہاکہ ایبٹ آباد میں آمدن بہت کم ہے، کے پی ہاؤس میں ممبران کی بکنگ بہت کم ہوتی اور کہا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ آئے ہیں اس لیے بکنگ بند کی گئی ہے، کیا وزیراعلیٰ کے ساتھ جانے والے لوگ آن ٹائٹل ہوتے ہیں یا ان سے کوئی بکنگ کی رقم لی جاتی ہے؟ کے پی ہاؤس افسران کے لیے صرف ٹائٹل ہے یا ممبران کا بھی اس پر حق ہے؟

اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری آصف خان سوال سے مکمل بے خبر رہے جس پر تنقیدکرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہاکہ ایوان میں عجیب ماحول ہے، سوال آنے پر بیورو کریسی متعلقہ وزیر کو بریف کرتے ہیں اس طرح تو کوئی پرائمری اسکول نہیں چلاتا ڈیڑھ سال سے ایوان میں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف تقریریں کی جاتی ہیں اور یہاں یہ حال ہے کہ فاٹا ہاؤس کا کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے۔ ایوان میں رائے شماری کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے سوال قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US