صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال پر دکھ ہے۔ پیپلز پارٹی اور حکومت سندھ پنجاب کے متاثرہ بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر آبپاشی پانی کی صورتحال کو خود مانیٹر کر رہے ہیں اور کچے کے علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دریائے سندھ کے مختلف بیراجوں پر پانی کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گڈو پر اِن فلو 300232 اور آؤٹ فلو 333361، سکھر پر اِن فلو 212300 اور آؤٹ فلو 266370، جبکہ کوٹری پر اِن فلو 211870 اور آؤٹ فلو 244025 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سندھ میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں لیکن پی ڈی ایم اے نے ہر ممکن انتظامات کر رکھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ نے بوٹس، خیمے، کولر اور کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کر لیا ہے اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کرنے کے لئے سیل بھی قائم کردیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو بھی ہر ممکن مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ 2010 کے سیلاب میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے اس وقت حکومت سندھ نے متاثرہ خاندانوں کو تین وقت کا کھانا پہنچایا اور اکیس لاکھ خاندانوں کو گھر بنا کر دیے جو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔
کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ بارشوں کے بعد شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمت کے لیے فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے رہنما صرف پریس کانفرنس کرتے ہیں عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں مل کر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مشکل وقت میں متاثرہ بھائیوں کی مدد کر سکیں۔