سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران بینچ کے تین ججز کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس سے عدالت کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق دورانِ سماعت قانونی نکات پر اختلافِ رائے نے تکرار کی شکل اختیار کرلی، جو رفتہ رفتہ تلخی میں تبدیل ہوگئی۔ ججز نے ایک دوسرے کے مؤقف پر سخت اعتراضات اٹھائے اور آئینی تشریحات پر اختلاف واضح طور پر سامنے آیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق بحث اس وقت شدت اختیار کرگئی جب ایک جج نے کہا کہ ”عدالت آئین کی تشریح اپنے اختیارات کے دائرے میں رہ کر کرے“، جس پر دوسرے جج نے جواب دیا کہ ”اگر دائرہ کار محدود کر دیا جائے تو عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہوگی۔“
معاملہ طول پکڑنے پر چیف جسٹس نے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ عدالت کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے، اختلاف رائے عدالتی عمل کا حصہ ہے، لیکن اسے ذاتی سطح پر نہیں لے جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق عدالت نے سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلی سماعت پر بینچ کی تشکیل یا کارروائی کے طریقۂ کار میں تبدیلی پر غور کیا جا سکتا ہے۔