پاکستانی حکام نے ملک میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بعض مبصرین کو خدشہ ہے کہ ان نئی ہدایات سے جعلی خبریں پھیلنے کی مزید گنجائش پیدا ہو گی۔
کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے میں شریک ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا (لاہور، 31 جولائی 2026)پاکستانی حکام نے ملک میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ان نئی ہدایات کے تحت غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، اب اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ ملک میں کسی بھی جگہ سے رپورٹنگ کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس کے نتیجے میں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ کا انحصار حکام کی اجازت اور ان کے مقرر کردہ وقت پر ہو جائے گا۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان اس وقت 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔
سیاستدان اور مبصر مصطفیٰ نواز کھوکھر اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ ہدایات اس محدود ہوتی ہوئی فضا میں بین الاقوامی میڈیا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں۔‘
میڈیا پر پابندیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں تاہم مقامی میڈیا کو اکثر بین الاقوامی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کہتے ہیں کہ ’عوام آزاد اور غیر جانبدار رپورٹنگ کے لیے بین الاقوامی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایسی پابندیاں عائد کرنے سے صرف غلط معلومات اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوتی ہے۔‘
مظفر آباد میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات (31 جولائی 2026) پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جاری کی گئیں یہ ہدایات میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ میڈیا کی تصدیق، انھیں رسائی میں مدد فراہم کرنے اور ضروری چیزوں میں تعاون دینے کے لیے ’ایک انتظامی طریقہ کار‘ مرتب کرنے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔
’فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز، 2026‘ کے نام سے جاری کیے گئے نئے قواعد و ضوابط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجازت نامہ حاصل کرنے، جسے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کہا جاتا ہے، کے اجرا میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
غیر ملکی صحافیوں کو پہلے ہی این او سی درکار ہوتا ہے اور انھیں اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے یا بعض اوقات انھیں کوئی جواب ہی نہیں ملتا۔
اس صورتحال کے باعث 24 کروڑ آبادی والے ملک میں کسی اہم اور فوری خبر کی موقع پر جا کر رپورٹنگ کرنے کی ان کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا ادارے اکثر پاکستانی شہریوں پر انحصار کرتے ہیں، جو پشاور یا کوئٹہ جیسے شہروں کا زیادہ آسانی سے سفر کر سکتے ہیں یا پہلے سے وہاں مقیم ہوتے ہیں، تاکہ اطلاعات کی تصدیق کی جا سکے۔
ان نئی ہدایات کے تحت، تین مخصوص شہروں کے علاوہ کسی اور مقام پر مقیم کوئی بھی معاون صحافی، بشمول فری لانس صحافیوں کے، کسی خبر کی کوریج کے لیے این او سی حاصل کرنے کا پابند ہو گا۔
انگریزی روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کہتے ہیں کہ ’یہ پابندیاں مضحکہ خیز ہیں اور کسی طور قابلِ قبول نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں اس ملک میں 40 سال سے زائد عرصے سے صحافت کر رہا ہوں اور دو فوجی حکمرانوں اور متعدد آمرانہ طرزِ حکومت رکھنے والی سول حکومتوں کے ادوار میں بھی رپورٹنگ کر چکا ہوں، لیکن میں نے کبھی ایسی پابندیاں نافذ ہوتے نہیں دیکھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صحافیوں سے یہ تقاضا کرنا کہ وہ تین بڑے شہروں سے باہر سفر کرنے کے لیے این او سی حاصل کریں، نہ صرف ان کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو متاثر کرتا ہے بلکہ آزادیٔ صحافت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔‘
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ افراد کی نقل و حرکت پر کوئی مکمل یا عمومی پابندی نہیں ہے۔
ان ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافیوں کی منظوری یا ایکریڈیٹیشن ایسے معاملات میں منسوخ کی جا سکتی ہے جو ’پاکستان کے نظریے، خودمختاری، سلامتی یا عوامی نظم و ضبط کے خلاف‘ تصور کیے جائیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس شق کو ’مبہم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تشریح کس طرح کی جائے گی، اس بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ایکریڈیٹیشن نظام میں یہ صلاحیت برقرار ہونی چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں کارروائی کر سکے ’جہاں ایکریڈیٹیشن رکھنے والا شخص قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط پر اثر انداز ہونے والے طرزِ عمل میں ملوث ہو۔‘
سپریم کورٹ کے وکیل صلاح الدین احمد کہتے ہیں کہ ’ان ہدایات کی حمایت کے لیے کوئی قانونی یا آئینی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔‘
ان کے بقول ’یہ ہدایات‘ محض انتظامی حکم نامے کی حیثیت رکھتی ہیں اور ’کسی باقاعدہ قانون کی صورت میں انھیں قانونی پشت پناہی حاصل نہیں ہے۔‘
’وہ رولز آف بزنس کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ان قواعد کا مقصد صرف حکومتی امور کے داخلی نظم و نسق کو منظم کرنا ہے، نہ کہ دوسروں پر قانونی ذمہ داریاں عائد کرنا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’واضح طور پر یہ ہدایات پاکستان میں آزادانہ رپورٹنگ کو مزید محدود کرنے کی ایک عجلت میں تیار کی گئی اور غیر سنجیدہ کوشش ہیں۔‘
حکومت کے مطابق یہ ہدایات رولز آف بزنس کے تحت جاری کی گئی ہیں اور چونکہ وزارتِ اطلاعات کا ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ غیر ملکی میڈیا سے متعلق امور کا ذمہ دار ہے، اس لیے یہ ہدایات وزارت اور غیر ملکی میڈیا کے درمیان انتظامی تعلقات کو منظم کرتی ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی صحافیوں کے ایک گروپ اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر وزیرِ اطلاعات سے ملاقات کے انتظامات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان نئی ہدایات پر اپنے تحفظات ان کے سامنے رکھ سکیں۔
ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان اس وقت 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہےمقامی حکام بظاہر خاص طور پر بعض مخصوص علاقوں سے ہونے والی رپورٹنگ کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
پیر کی شام غیر ملکی میڈیا کے اداروں کو وزارتِ اطلاعات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود تمام افراد ’فوراً واپس لوٹیں‘ اور این او سی کے لیے درخواست دیں۔
اس علاقے میں گذشتہ دو ماہ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہاں مقامی انتخابات جاری ہیں، جن کا مظاہرین بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد رکاوٹوں کے باعث وہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
وزارت کا یہ پیغام اس وقت بھیجا گیا جب بی بی سی سمیت کئی بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے رپورٹس شائع کی تھیں۔
الجزیرہ کے ایک نامہ نگار کی مظفرآباد سے کی گئی ایک رپورٹ کو ملک کی وزارتِ اطلاعات نے ’زرد صحافت‘ قرار دیا تھا اور پیر سے ادارے کی ویب سائٹ پاکستان میں کھل نہیں رہی۔
کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ متنازع اور فوجی موجودگی والے خطوں میں سے ایک ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں پورے علاقے پر دعویٰ کرتے ہیں، اگرچہ دونوں کے کنٹرول میں اس کے صرف بعض حصے ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدامنی اور احتجاجی سرگرمیوں کی کوریج ایک سیاسی طور پر حساس موضوع سمجھی جاتی ہے۔
دو پاکستانی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنے ایڈیٹرز کی جانب سے اس موضوع سے دور رہنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔