جب شیخ حسینہ سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے بنگلہ دیش واپسی کے بارے میں انڈیا سے بات کی ہے یا وہ کسی قسم کی ثالثی کی کوشش کرے گا، تو عوامی لیگ سربراہ کا کہنا تھا کہ انڈیا ہمیشہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا رہا ہے لیکن ان کی ملک واپسی کا دونوں ممالک کی حکومتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عوامی لیگ کی جلاوطن سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم حسینہ واجد نے دسمبر میں اپنے ملک واپس جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
بدھ کو 'فارن کورسپانڈینٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا' کے زیرِ اہتمام ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں انڈیا میں مقیم بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے اپنے ملک واپسی کی تاریخ تو نہیں بتائی لیکن کہا کہ وہ دسمبر میں وہاں جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس ایونٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے شیخ حسینہ کے لندن میں مقیم صاحبزادے اور سیاسی مشیر سجیب واجد جوئے بھی موجود تھے۔ اس پریس کانفرنس کے دوران بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم کی تصویر تو سکرین پر نظر نہیں آئی، تاہم وہ اپنی آواز کے ذریعے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتی رہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بنگلہ دیش روانگی کی تفصیلات کے حوالے سے جلد ہی میڈیا کو آگاہ کریں گی۔
'فارن کورسپانڈینٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا' ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔ 5 اگست 2024 کو اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد انھوں نے پڑوسی ملک انڈیا میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔
گذشتہ برس انھیں ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات پر سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔ جب اس حوالے سے شیخ حسینہ سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں بنگلہ دیش واپسی پر گرفتاری کا ڈر ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کیا کرے گی اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں اور وہ اپنی عوام کے پاس ضرور واپس جائیں گی۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے اس خطاب سے قبل ہی ملک کے میڈیا کو خبردار کر دیا تھا کہ وہ شیخ حسینہ کے بیانات پر خبریں شائع نہ کریں۔
ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعظم طارق رحمان کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر زاہد الرحمان کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کے حوالے سے خبر کی اشاعت عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی اور ’ہم ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
دو برس قبل سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے بعد سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں مگر اب عوامی لیگ کی سربراہ کا نئی دہلی میں خطاب صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
جب شیخ حسینہ سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے بنگلہ دیش واپسی کے بارے میں انڈیا سے بات کی ہے یا وہ کسی قسم کی ثالثی کی کوشش کرے گا، تو عوامی لیگ سربراہ کا کہنا تھا کہ انڈیا ہمیشہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا رہا ہے لیکن ان کی ملک واپسی کا دونوں ممالک کی حکومتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈین حکومت کو شیخ حسینہ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔
تاہم انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا شیخ حسینہ کے متوقع خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کے تحفظات
شیخ حسینہ پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی انڈیا میں مقیم ہیں۔ گذشتہ برس انھیں ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔
شیخ حسینہ اس فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں۔
بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر زاہد الرحمان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے ایک حکمنامے کے مطابق میڈیا اور سوشل میڈیا شیخ حسینہ کی تقاریر، بیانات، انٹرویوز یا دیگر پیغامات نشر نہیں کر سکتا۔
بنگلہ دیش طویل عرصے سے انڈیا سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے اور اسی سبب دونوں ممالک کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
اب شیخ حسینہ کی تقریر پر بھی بنگلہ دیش کی حکومت ناراضی کا اظہار کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ نے متعدد مرتبہ نئی دہلی کو انڈین سرزمین سے جاری ہونے والے شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کے بیانات سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
دوسری جانب شیخ حسینہ کے قریبی ساتھی ابو عبیدہ آرن نے بنگلہ دیشی حکومت کے تحفظات کو مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کا ایونٹ اپنے طے شدہ وقت پر ہوگا اور بنگلہ دیش کی حکومت سرحدی حدود سے باہر ’اختلافی آوازوں کو خاموش نہیں کر سکتی۔‘
پانچ اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش میں حکومت ختم ہوئی تھی اور انھوں نے انڈیا میں پناہ حاصل کی تھیانڈین حکومت کا مؤقف
منگل کو انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے پریس بریفنگ کے دوران جب بنگلہ دیش کے تحفظات کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس تقریب کی بات ہو رہی ہے اس کا انعقاد ایک نجی ادارہ کروا رہا ہے اور انڈین حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تقریب میں سامنے آنے والے ’بیانات اور آرا کی انڈین حکومت حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی ہمارا اس سے کوئی تعلق ہے۔‘