کراچی میں 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کی ایک ہفتہ قبل ہونے والی موت کا معمہ حل ہونے کے بجائے مزید اُلجھ گیا ہے اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید سوالات اُٹھے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان کے کہنے پر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جا سکتا ہے۔
کراچی میں 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کی موت کا معمہ حل ہونے کے بجائے مزید اُلجھ گیا ہے اور جہاں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید سوالات اُٹھے ہیں وہیں کراچی پولیس کے سربراہ نے پولیس سرجن کی جانب سے اس پر کیے جانے والے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں وافلکس نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک رضا علی خان 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور ایک روز بعد اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں پہاڑی اور شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
سات روز گزر جانے کے پولیس یہ تعین نہیں کر سکی کہ رضا علی کی موت کیسے ہوئی اور نہ ہی اب تک کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم موت کے 21 سے 36 گھنٹے بعد کیا گیا جبکہ اُن کے سینےپر بڑے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر تعفن کے آثار نمایاں تھے، جسم پر شدید سوجن اور رنگ میں تبدیلی آچکی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے منگل کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ‘ میں کہا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم جائے وقوعہ سے لی گئی تصاویر سے مماثلت نہیں رکھتیں جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جوابات کے بجائے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گولی کے جسم میں داخل ہونے کا نشان بڑا ہے جبکہ نکلنے کی جگہ پر چھوٹا سوراخ ہے تاہم ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر معاملات میں گولی کے داخل ہونے کا زخم عام طور پر چھوٹا جبکہ نکلنے کا زخم بڑا ہوتا ہے۔
سمعیہ سید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم بدھ کو اس معامل پر تفتیشی حکام کے ساتھ دوبارہ بیٹھیں گے اور اُمید ہے کہ یہ کیس جلد حل ہو جائے گا۔‘
کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ڈاکٹر سمیعہ کے بیانات پر کہا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے نہ تو خود پوسٹ مارٹم کیا اور نہ ہی لاش دیکھی اور صرف تصویروں کی بنیاد پہ یہ رائے دی ہے۔
بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خانکا کہنا تھا کہ ’اگر خاندان والے کہیں گے اور قانونی تقاضے پورے ہوں گے تو دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں دیتی، یہ رپورٹ میڈیکل رپورٹ ہوتی ہے جو ڈاکٹر دیتے ہیں لہذا ایم ایل او نے جو رپورٹ دی ہے پولیس نے ابھی تک جو اپنی رائے بنائی ہےاسی رپورٹ کی بنیاد پر بنائی ہے۔‘
پولیس سرجن کے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے آزاد خان کا کہنا تھا ’انھوں نے اگر کوئی آبزرویشن دی ہے، تو انھیں تحریری طور دینی چاہیے تھی بجائے اس کے کہ وہ میڈیا پر دیں۔ اس کا ایک طریقۂ کار ہے اور وہ طریقۂ کار یہ ہے کہ بورڈ بنے اور بورڈ جو رائے دے گا پولیس اس کے حساب سے چلے گی۔‘

’والدہ کو کہہ کر گیا تھا دس منٹ میں آ رہا ہوں‘
میر رضا علی 28 جولائی کو اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔
لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد بدھ کے کو پولیس کو ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔
میر رضا علی کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک تین رُکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی
سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو سونپی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان سدوزئی بھی اس میں شامل ہیں۔
کراچی پولیس کے سربراہ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم کو مقتول میر رضا علی خان کے مبینہ اغوا اور قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم ضرورت پڑنے پر کراچی کے کسی بھی پولیس افسر کو اپنی معاونت کے لیے طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
ٹیم کے اراکین نے پیر کو میر رضا علی کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور ان کے بیانات قلمبند کیے، جس کے بعد گلستان جوہر میں واقعے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا۔
میر رضا علی کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ تھے جبکہ وافلکس کے بانی بھی تھے۔
ان کے والد میر حسین علی کی جانب سے کراچی کے فیروز آباد تھانے میں دائر کی جانے والے مقدمہ کی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ان کا 25 سالہ بیٹا 28 جولائی کی شب اپنی دکان وافلکس بہادر آباد چورنگی سے اپنی گاڑی پر گھر آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق میر رضا علی نے اپنی والدہ کو تقریباً چار بجے رات کو بتایا کہ وہ ’دس منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے۔‘
مدعی کے مطابق میر رضا علی کا موبائل فون ان کے پاس ہی تھا لیکن کافی دیر بعد جب بیٹا واپس نہیں آیا تو ان کی بیگم نے بیٹے کے نمبر پر کال کی جو بند تھا۔
میر رضا علی کی والدہ نے مدعی کو نیند سے اٹھا کر بتایا جس کے بعد وہ اپنے طور پر بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران انھوں نے مددگار 15 پر بھی اطلاع دی تھی۔
کپڑوں سے شناخت
ایک روز بعد پولیس کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔ لیکن اس لاش کی شناخت آسان نہیں تھی۔
ایس ایچ او کامران قریشی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا۔‘
تاہم پولیس کے مطابق ’جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔‘
پولیس کے مطابق مقتول کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔
’میرا غرور تو چلا گیا‘
میر حسین علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ’دو ہی بچے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کسی سے دشمنی، لین دین کے معاملے کا تعلق ہے، تو ایسا بالکل کچھ نہیں تھا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘
ان کے مطابق ’جس دن ایف آئی آرکٹی، اس کے اگلے ہی دن بچے کی باڈی مل گئی۔‘
و کہتے ہیں کہ ’لاش بھی تھانے کو ملی تھی اور انھوں نے اسے نامعلوم کے طور پر درج کیا تھا۔ اب اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ کل بچے کی تدفین تھی اور آج اس کا سوئم ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پڑھتا تھا اور مارکیٹنگ کے شعبے کا آنر سٹوڈنٹ تھا۔ ’وہ ایک بہت ہی لائق اور قابل بچہ تھا۔‘