اسی ہفتے جنوبی افریقہ نے انڈیا کو رنز کے اعتبار سے اس کی تاریخ کی سب سے بھاری ٹیسٹ شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔یہ 25 سال بعد انڈیا میں جنوبی افریقہ کی پہلی سیریز جیت ہے اور پچھلے 12 مہینوں میں ہوم گراؤنڈ پر انڈیا کی سیریز میں دوسری شکست ہے۔
بڑے ناموں کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے اور کئی وہ کھلاڑی جو لمبے عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کی تکنیکی اور ذہنی کمزوریاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔انڈیا کو حال ہی میں ختم ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 0-2 کی غیرمتوقع شکست نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اسی ہفتے جنوبی افریقہ نے انڈیا کو رنز کے اعتبار سے اس کی تاریخ کی سب سے بھاری ٹیسٹ شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔یہ 25 سال بعد انڈیا میں جنوبی افریقہ کی پہلی سیریز جیت ہے اور پچھلے 12 مہینوں میں ہوم گراؤنڈ پر انڈیا کی سیریز میں دوسری شکست ہے۔
گذشتہ چھ مہینوں میں جو رفتار اور اعتماد بن رہا تھا اب وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور کئی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے۔
انگلینڈ میں موسمِ گرما کے دوران نئے کپتان کی قیادت میں نوجوان ٹیم کی شاندار کارکردگی نے یہ تاثر دیا تھا کہ آر اشون، روہت شرما اور ویرات کوہلی جیسے بڑے کھلاڑیوں کی تقریباً ایک ساتھ رخصتی کے باوجود ٹیم آسانی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ہوم گراؤنڈ سیزن کے شروع میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 0-2 کی آسان جیت نے بھی یہ تاثر مضبوط کیا لیکن جنوبی افریقہ نے آ کر یہ بھرم توڑ دیا۔
انڈیا کے لیے بدقسمتی یہ تھی کہ کپتان شبھمن گل پہلے ہی ٹیسٹ میں زخمی ہو گئے اور باقی سیریز میں حصہ نہیں لے سکے۔ لیکن یہ وجہ انڈیا کی دونوں ٹیسٹ میچز میں انتہائی ناقص کارکردگی کو نہ تو مکمل طور پر بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے معاف کرنے کے لیے کافی ہے۔
بڑے ناموں کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے اور کئی وہ کھلاڑی جو لمبے عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کی تکنیکی اور ذہنی کمزوریاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔
گذشتہ چھ مہینوں میں جو رفتار اور اعتماد بن رہا تھا اب وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور کئی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے۔یہ انڈیا کا ہوم گراؤنڈ میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسرا وائٹ واش ہے۔ 2024 میں کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم نے انڈیا کو حیران کن طور پر 3-0 سے ہرایا جس کی وجہ سے انڈیا ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کے فائنل میں جگہ کھو بیٹھا۔
حال ہی میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست نے بھی انڈیا کے اس سائیکل کے فائنل تک پہنچنے کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سیریز سے پہلے ڈبلیو ٹی سی کے پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے نمبر پر موجود انڈیا اب پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔ اگرچہ ابھی نو ٹیسٹ باقی ہیں اور ان میں سے پانچ آسٹریلیا کے خلاف ہیں۔ عام طور پر ہوم گراؤنڈ میں کھیلنا فائدہ مند ہوتا ہے۔۔۔ حتیٰ کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف بھی۔ لیکن نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف ہونے والی شکستوں نے اس توقع کو بھی ختم کر دیا ہے۔
انڈیا کی ریڈ بال کرکٹ میں کمزوری واضح طور پر سامنے آ گئی ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انڈیا نے حالیہ برسوں میں ہوم گراؤنڈ میں اتنی خراب کارکردگی کیوں دکھائی۔
سینچری کے آغاز سے انڈیا کو ہوم گراؤنڈ میں ریڈ بال کرکٹ میں ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا۔ گرم اور نم ماحول میں اور ایسی پچز پر جو سپن کے لیے مددگار تھیں، انڈیا کے بلے باز اور بولرز مخالف ٹیم کو مشکل میں ڈال دیتے تھے۔ کبھی کبھار کی شکست جیسے 2012-13 میں انگلینڈ کے خلاف، ایک استثنیٰ سمجھی جاتی تھی۔
اب انڈیا اپنی ہی سرزمین پر آسان شکار لگتا ہے۔
2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اور اس سال جنوبی افریقہ کے خلاف، انڈیا نے اپنی تیار کردہ پچز کے ذریعے اپنے ہی پاؤں پر کلھاڑی ماری ہے۔ وہ پچز جو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بنائی گئی تھیں، بالآخر مخالف ٹیم کے حق میں کام آئیں اور اہم لمحات میں انڈیا کے بلے باز اور بولرز پرفارم نہیں کر سکے۔
غلطی کہاں ہوئی؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہوم گراؤنڈ کی پچز کو بدل کر سپنرز سے فاسٹ ٹریک بنانے کی وجہ سے انڈیا ہوم گراؤنڈ میں ہار رہا ہے تاکہ کھلاڑی بیرون ملک اچھا کھیل سکیں۔
دوسرے کہتے ہیں کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) جس میں کئی غیر ملکی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں، نے انڈیا کے ہوم گراؤنڈ کی مشکل کو کم کر دیا ہے کیونکہ غیر ملکی کھلاڑی پہلے ہی حالات کو سمجھ جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیم کو اب ہوم گراؤنڈ میں بھی مشکل ہو رہی ہے۔
دونوں تجزیوں میں کچھ حد تک سچائی ہے، لیکن پھر بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انڈیا کی ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی میں اتنی تنزلی کیوں آئی ہے۔
2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اور اس سال جنوبی افریقہ کے خلاف، انڈیا نے اپنی تیار کردہ پچز کے ذریعے اپنے ہی پاؤں پر کلھاڑی ماری ہے۔سابق کھلاڑیوں کے مطابق انڈیا کی حالیہ خراب کارکردگی کی ایک یا دو نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں۔
تنقید نگاروں اور کھلاڑیوں نے پروٹیز کے خلاف شرمناک شکست کے بعد کئی کمزوریاں بتائیں: مخالف ٹیم کو کم سمجھنا، ناقص تیاری، غلط سلیکشن، حد سے زیادہ اعتماد، بار بار ٹیم میں تبدیلی اور ریڈ بال کرکٹ کے بجائے وائٹ بال کو زیادہ ترجیح دینا۔
یہ ٹیم کی کارکردگی میں واضح تھا۔ رشبھ پنت اور یشاسوی جیسوال جیسے کھلاڑی جن سے بہت توقعات تھیں، انھوں نے اپنی لاپرواہی کی قیمت چکائی۔ سائی سدرشن، نیتیش کمار ریڈی اور دھروو جیورل جو ٹیم میں جگہ پکی کرنا چاہتے تھے، اپنے کھیل اور مزاج کے لحاظ سے کمزور ثابت ہوئے۔
صرف چند کھلاڑی جیسے رویندر جدیجہ، جسپریت بمراہ، کلدیپ یادو، محمد سراج اور واشنگٹن سندر نے اپنی صلاحیت کے مطابق کھیل دکھایا، لیکن اتنا نہیں کہ میچ جیت سکے۔
تنقید صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہی۔ سلیکٹرز اور سپورٹ سٹاف بھی اس سے بچ نہیں پائے ہیں۔ مایوس شائقین اور سابق کھلاڑی بھی تنقید میں شامل تھے اور سب کی سب توجہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر پر مرکوز تھی۔
سیریز کے بعد پریس کانفرنس میں گوتم گمبھیر نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سخت مزاج کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ بات ان کی اپنی ناکامیوں کو چھپا نہیں سکتی کہ وہ نتائج فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
یہ 25 سال بعد انڈیا میں جنوبی افریقہ کی پہلی سیریز جیت ہے اور پچھلے 12 مہینوں میں ہوم گراؤنڈ پر انڈیا کی سیریز میں دوسری شکست ہے۔گوتم گمبھیر کے کچھ فیصلے متنازع تھے۔ مثال کے طور پر کولکتہ میں پہلے ٹیسٹ میں چار سپنرز کھیلانا جن میں سے تین بائیں ہاتھ والے تھے یا ٹیم کو آل راؤنڈرز سے بھر دینا اور سپیشلسٹ کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنا جیسا کہ وائٹ بال کرکٹ میں ہوتا ہے، یا واشنگٹن سندر کو نمبر تین سے بیٹنگ آرڈر میں نمبر آٹھ پر منتقل کرنا حالانکہ نوجوان نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔
سیریز کا نتیجہ گوتم گمبھیر کے لیے خاص طور پر نقصان دہ رہا۔ ان کی قیادت میں آخری سات ہوم ٹیسٹ میں سے انڈیا پانچ ہار چکا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ خراب ریکارڈ ان کی ٹیم کے انتخاب، کھیل کے منصوبے، کھلاڑیوں کی مہارت اور مزاج کے حوالے سے سوال اٹھاتا ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ گوتم گمبھیر کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے اور سلیکٹرز ان کھلاڑیوں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں جو ریڈ بال کرکٹ میں اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں کھیل سکے۔
لیکن اس وقت ایک بات واضح ہے کہ انڈیا کی ٹیسٹ کرکٹ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔