بالی وڈ میں غصّیل ہیروز کی واپسی: امیتابھ بچن سے رنویر سنگھ تک ’اینگری ینگ مین‘ کا دور ختم ہونے والا نہیں

سنہ 2024 میں خواتین کی کہانیوں پر مبنی فلموں نے عالمی سطح پر انڈیا کے سینما امیج کو نیا رخ دیا تھا اور اسی وجہ سے خوب داد سمیٹی تھی، مگر سنہ 2025 میں بالی وڈ کی پرتشدد، مردانہ ایکشن تھرلر فلموں نے باکس آفس اور عوامی بحث و مباحثے کو جنم دیا

سنہ 2025 انڈین فلم انڈسٹری کے لیے ایک بار پھر اپنے پرانے رنگ ڈھنگ کی جانب واپسی کا سال ثابت ہوا۔

سنہ 2024 میں خواتین کی کہانیوں پر مبنی فلموں نے عالمی سطح پر انڈیا کے سینما امیج کو نیا رخ دیا تھا اور اسی وجہ سے خوب داد سمیٹی تھی، مگر سنہ 2025 میں بالی وڈ کی پرتشدد، مردانہ ایکشن تھرلر فلموں نے باکس آفس اور عوامی بحث و مباحثے کو جنم دیا اور تقریباً ہر ہی فلم کی ریلیز کے بعد یا اس کے ٹریلر یا ٹیزر کے آنے پر اس فلم کی کہانی پر خوب بحث ہوئی۔ جس میں تنقید اور تعریف دونوں ہی شامل تھیں۔

سال کے آخری ہفتوں میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ چرچا فلم ’دھورندھر‘ کا رہا، جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں بنائی گئی ایک جاسوسی تھرلر ہے۔ گینگ وار سیاست اور پرتشدد مناظر سے بھرپور یہ فلم سال کی سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور اس فلم نے مردانہ طاقت کے بیانیے کو مزید تقویت دی۔

یہ رجحان سنہ 2024 سے بالکل مختلف تھا، جب خواتین کی بنائی گئی کئی فلمیں جن میں پایل کپاڈیا کی ’آل وی امیجن ایز لائٹ‘، شوچی تلاتی کی ’گرلز ول بی گرلز‘ اور کرن راؤ کی ’لاپاتا لیڈیز‘ کو عالمی توجہ بھی حاصل ہوئی اور ان فلموں کی خوب تعریف بھی ہوئی اور پزیرائی بھی ملی۔

فلمی نقاد مایانک شیکھر انڈین فلم انڈسٹری کی اس صورتحال کو محض ایک رجحان نہیں بلکہ ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سنہ 2024 نے یہ ثابت کیا کہ انڈین خواتین فلم ساز کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ یہ خواتین فلم ساز عالمی سطح پر نمایاں رہیں۔‘

تاہم سنہ 2025 کے ٹاپ 10 باکس آفس ہٹس میں زیادہ تر فلمیں مردانہ ہیروز کے گرد گھومتی رہیں۔ تاریخی ایپک ’چھاوا‘ اور ایکشن سپیکٹیکل ’وار 2‘ نمایاں رہیں، جبکہ واحد خواتین مرکزی کردار والی فلم ملیالم زبان کی سپر ہیرو فلم ’لوکہ‘ تھی۔

محض ایکشن فلمیں ہی نہیں بلکہ رومانوی بلاک بسٹر ’سیاّرا‘ بھی ایک مرد راک سٹار کی کہانی تھی جو اپنی الزائمر کی مریضہ ساتھی کو ’بچاتا‘ ہے۔ اسی طرح ’کانتارا: چیپٹر 1‘ اور ’مہاوتار نرسمہا‘ جیسی دیومالائی فلموں نے بھی روایتی مردانہ ہیروازم کو بڑھاوا دیا۔

یوں سنہ 2025 کی سب سے زیادہ زیرِ بحث فلمیں مردوں کی تکالیف اور جدو جہد، طاقت اور انتقام کی بلند آوازوں سے بھری رہیں۔

سنہ 2025 کے ٹاپ 10 فلموں میں سب سے زیادہ بحث کا موضوع رہی فلم ’تیرے عشق میں‘، جس میں ایک غصے سے بھرپور مردانہ کردار اور ایک کامیاب عورت دکھائی گئی ہے، جس کی خواہشات اور خواب اس کے عاشق کی جنونی محبت کے باعث دب جاتے ہیں۔ زہریلی مردانگی کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کے باوجود یہ فلم اداکار دھنوش کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ریلیز ثابت ہوئی، جس نے دنیا بھر میں 1550 کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کیا۔

اسی دوران ایک اور غیر متوقع ہٹ فلم ’ایک دیوانے کی دیوانیت‘ رہی، جو کم بجٹ کی رومانوی ڈرامہ فلم تھی۔ اس میں ہیرو کو ایک ’جنونی عاشق‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو ’نہ‘ کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔

کنگز کالج لندن کی سینئر لیکچرر پریانکا باسُو کے مطابق سنہ 2024 نے ’یہ دکھایا کہ کیا ممکن ہے‘، مگر وہ کہتی ہیں کہ انڈین فلم انڈسٹری نے تاریخی طور پر خواتین کو مرکزی کردار سے محروم رکھا ہے۔ ان کے مطابق فلمی صنعت میں کاسٹنگ، معاوضے اور مواقع کے حوالے سے شدید عدم مساوات موجود ہے۔ ’صرف ایک سال میں یہ سب بدلنا غیر حقیقی ہے، ہمیں مزید ایسے برسوں اور مزید کہانیوں کی ضرورت ہے جو خواتین کو مرکزی کرداد کے قریب رکھیں۔‘

انڈین سینما، خصوصاً بالی وڈ، کی مردانہ ہیروازم کی روایت امیتابھ بچن کے سنہ 1970 کی دہائی کے ’اینگری ینگ مین‘ کردار سے جڑی ہے۔ حتیٰ کہ شاہ رخ خان کا رومانوی دور بھی ایک مختصر وقفہ ثابت ہوا، جسے انھوں نے بعد میں چھوڑ کر پٹھان اور جوان جیسی ایکشن فلموں کو ترجیح دی۔

یہ رجحان اب سٹریمنگ پلیٹ فارمز تک بھی پہنچ گیا ہے، جو کبھی خواتین پر مبنی کہانیوں کے لیے متبادل جگہ سمجھے جاتے تھے۔ میڈیا ریسرچ کمپنی اورمیکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 338 انڈین شوز کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایکشن اور کرائم تھرلرز، جو زیادہ تر مردانہ کرداروں پر مبنی ہیں، اب 43 فیصد مواد پر مشتمل ہیں۔ خواتین پر مبنی کہانیاں سنہ 2022 میں 31 فیصد تھیں جو سنہ 2025 میں کم ہو کر صرف 12 فیصد رہ گئی ہیں۔

فلمی نقاد مایانک شیکھر کے مطابق ’کسی موقع پر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے باکس آفس منطق کا پیچھا شروع کر دیا۔ اب سٹریمنگ تھیٹر کی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، بجائے اس کے کہ انھیں چیلنج کرے۔‘

تجارتی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈین فلموں میں مردانہ کرداروں کی بالادستی تخلیقی زوال نہیں بلکہ ناظرین کی طلب یعنی لوگوں کی ڈیمانڈ کا نتیجہ ہے۔ فلمی تجزیہ کار ترن آدرش کے مطابق ’انڈین فلمیں روایتی طور پر مردانہ کرداروں پر مبنی رہی ہیں، لیکن ہمارے پاس ’مدر انڈیا‘ اور ’پاکیزہ‘ جیسی خواتین پر مبنی کلاسکس بھی موجود ہیں۔‘

ان کے بقول فلمی دُنیا پر یہ الزامات چند نقادوں کی رائے تو ہو سکتے ہیں مگر یہ فلمی دُنیا کی قسمت نہیں بدل سکتے۔

تاہم مصنفہ اور نیٹ فلکس سیریز دہلی کرائم 3 کی شریک لکھاری انو سنگھ چوہدری کا کہنا ہے کہ سب کچھ ناظرین کی پسند پر ڈال دینا ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ’مردانہ بلاک بسٹرز ہمیشہ سے موجود رہے ہیں کیونکہ ہمارا معاشرہ پدرشاہی اور مردانہ غلبے پر مبنی رہا ہے۔ یہ راتوں رات نہیں بدلے گا، لیکن جیسے جیسے عالمی منظرنامہ بدلے گا، ہماری فلمیں بھی بدلیں گی۔‘

معاشی حقیقت بھی اس رجحان کو تقویت دیتی ہے۔ پروڈیوسرز، ڈسٹری بیوٹرز اور نمائش کنندگان سکرینز، مارکیٹنگ اور فلم کی نمائش پر کنٹرول رکھتے ہیں، جو اکثر بڑے مرد ستاروں کی بینک ایبلٹی پر منحصر ہوتا ہے۔ خواتین پر مبنی اور آزاد فلمیں اس میدان میں سخت مشکلات کا سامنا کرتی ہیں خاص طور پر جب ان کے پاس بڑے نام نہ ہوں۔

سکرین رائٹر آتیکا چوہان جنھوں نے خواتین پر مبنی فلمیں ’چھپاک‘ اور ’مارگریٹا ود اے سٹرا‘ لکھی ہیں کا کہنا ہے کہ ’موجودہ دور ظاہری اور مبالغہ آمیز عورت دشمنی کا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ جزوی طور پر اس ردعمل کا نتیجہ ہے جو خواتین نے سنہ 2017-19 کی ’می ٹو‘ تحریک کے دوران جواب دہی کے مطالبے کے طور پر پیش کیا گیا۔ تحریک نے فلمی صنعت میں وسیع پیمانے پر بدسلوکی کو بے نقاب کیا مگر اس کا اثر غیر مساوی رہا۔ کچھ ملزمان کو وقتی نقصان ہوا لیکن زیادہ تر واپس کام پر آ گئے اور طاقت کے ڈھانچے میں عدم توازن برقرار رہا۔‘

چوہان کے مطابق ’جب تک یہ انتہائی مردانہ کرداروں والی فلمیں پیسہ کما رہی ہیں یہ کہیں نہیں جا رہیں یعنی ان کا دور ختم ہونے والا نہیں ہے۔‘

اس کے باوجود اُمید کی کرنیں موجود ہیں خاص طور پر چھوٹی علاقائی فلمی صنعتوں اور آزاد فلم سازوں سے۔ انو سنگھ چوہدری کے مطابق ’نئی نسل کے آزاد فلم ساز ’دلکش اور قابلِ عمل سینما‘ بنا رہے ہیں نہ کہ صرف بڑے پیمانے پر تفریحی فلمیں۔‘

تیلگو فلم ’دی گرل فرینڈ‘ ایک عورت کی کہانی بیان کرتی ہے جو زہریلے تعلق سے آزاد ہونا سیکھتی ہے، جبکہ تمل فلم ’بیڈ گرل‘ کو خواتین کے نقطہ نظر سے کامیاب بلوغت کی کہانی قرار دیا گیا۔ ملیالم فلم ’فیمینیچی فاطمہ‘ نے مزاح کے ذریعے ایک مسلم گھریلو خاتون کی خاموش بغاوت کو دکھایا۔ سٹریمنگ پلیٹ فارم پر ’دی گریٹ شمس الدین فیملی‘ کو جدید مسلم خواتین کی روزمرہ جدوجہد اور پیچیدگیوں کو اجاگر کرنے پر سراہا گیا۔

انو سنگھ چوہدری کے مطابق ’یہ ایک خاموش تحریک ہے جو حاشیے سے کام کر رہی ہے اور یہ ختم نہیں ہونے والی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US