اگر آپ کو اپنی سہیلی کا پارٹنر پسند نہ ہو تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟

علامتی تصویر
Getty Images

یہاں ہمیں ایک ٹی وی سیریز کے بارے میں بات کرنی چاہیے تھی جو کہ امریکہ کے شہر لاس اینجلس کے سب سے بڑے اور خوبصورت گھروں پر مبنی ہے، لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ان گھروں کو بیچنے والے خود ہی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

نیٹ فلکس کے ریئلٹی شو ’سیلنگ سن سیٹ‘ کی تازہ ترین قسط نے اس پرانی بحث کو جنم دیا ہے کہ ایک دوست کے 'زہریلے' ساتھی سے کیسے نمٹا جائے۔ خیال رہے کہ ان دنوں اس شو کا نواں سیزن پیش کیا جا رہا ہے۔

شو کی دو سٹارز، جن میں جائیداد کی ایجنٹس کرسشل سٹاؤس اور ایما ہرنان شامل ہیں، وہ ایما کے دوست بلیک ڈیوس کے باعث کیمرے کے سامنے اور پیچھے دونوں جگہ اختلاف کا شکار ہیں کیونکہ ایما کے دوست بلیک ڈیوس کو کرسشل ناپسند کرتی ہیں۔

یہ جھگڑا سیزن کے آخری ری یونین والی قسط میں شدت اختیار کر گیا جب اس نے اس بارے میں آن لائن بحث چھیڑ دی کہ آپ اپنے اس دوست سے اس صورت میں بھی دوستی برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں جس کے ساتھی کو آپ پسند نہیں۔

ہم نے اس مخمصے سے گزر چکی ایک خاتون اور دو تعلقات کے ماہرین سے بات کی ہے کہ اس نازک صورتِ حال میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

دوستوں میں دوریاں

شو میں 44 سالہ کرشل سٹاؤس کہتی ہیں کہ انھیں کبھی بھی ایما ہرنان کا جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ڈیوس کے ساتھ تعلق منظور نہیں رہا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیوس نے تعلق کے آغاز میں ہرنان پر حد سے زیادہ توجہ اور محبت کی برسات کی اور یہ سب ’بڑے خطرے کے اشارے‘ تھے۔ محبت کی یہ یلغار اکثر تحفوں، غیر معمولی توجہ اور طرح طرح کے وعدوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی۔

ہرنان نے نیٹ فلکس کی آن لائن اشاعت کو بتایا کہ وہ سٹاؤس کو اس بات پر قصوروار نہیں ٹھہراتیں کہ وہ انھیں بچانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ سٹاؤس ہر چیز میں رخنہ نہ ڈالے اور اپنا ’قدم پیچھے رکھ کر‘ ان کی محبت اور حمایت کی حد کو سمجھیں۔

وہ یہ بھی کہہ چکی ہیں: ’میں نے اس کے ساتھ اپنا وقت اچھا گزارا ہے۔۔۔ لوگ جو چاہیں کہیں۔۔۔ انھیں وہ پسند ہو یا ناپسند۔۔۔ لیکن آخر میں فیصلہ میرا ہوگا کہ میں کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘

خیال رہے کہ کئی لوگ ایسی صورت حال سے گزر چکے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو اس طرح کی صورت حال سے گزر رہے ہوں گے۔

حنّا اپنا دوسرا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ اپنی دیرینہ دوست، جورجیا (فرضی نام) سے اس کے ساتھی کے باعث دور ہو گئیں۔

حنّا کہتی ہیں کہ جورجیا کی ’برے لوگوں‘ کے ساتھ ڈیٹنگ کی پرانی تاریخ تھی اور پھر وہ لندن سے ایک ایسے پارٹنر کے ساتھ چلی گئیں جس نے ’خاصی جلدی، شاید ایک سال کے اندر ہی‘ انھیں شادی کی پیشکش کر دی۔

حنّا کے مطابق، جورجیا ’اس کے سحر میں جکڑی ہوئی' لگتی تھیں اور پھر شادی سے پہلے ایک رات جورجیا کے منگیتر نے ان کے بارے میں جنسی نوعیت کی باتیں شروع کر دیں۔

انھوں نے بتایا: ’وہ میرے پاس آیا اور انتہائی کھلے، فحش انداز میں بتانے لگا کہ وہ میرے ساتھ کیا کیا کرنا چاہتا ہے۔‘

حنّا کہتی ہیں کہ ان کے لیے یہ تجربہ ’انتہائی ناگوار‘ اور ’بالکل اچانک‘ تھا۔

چند روز بعد جب انھوں نے جورجیا کو بتایا تو اس نے اس کو یوں ہی ہوا میں اڑا دیا اور کہنے لگی کہ ’وہ اپنی تمام خواتین دوستوں کے ساتھ ایسی باتیں کرتا ہے‘ جبکہ حنا کے مطابق وہ اسے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اس نے جو باتیں کی وہ انتہائی نامناسب تھیں۔

ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رشتوں کے ماہرین کا مشورہ

تعلقات کی ماہر اور کونسلر اینا ولیم سن کہتی ہیں کہ اگر آپ اپنے دوست کے ساتھی کے بارے میں فکرمند ہیں تو ان کی مدد کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

وہ چینل فور کے پروگرام ’سیلیبز گو ڈیٹنگ‘ میں ڈیٹنگ ایکسپرٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ضروری ہے کہ آپ نہ تو اپنے دوست کا فیصلہ کریں، نہ انھیں حکم دیں کہ کیا کریں۔ فیصلہ دینے سے دوست دفاعی رویّہ اپنا سکتے ہیں، اور مدد اور مداخلت کے درمیان لائن کھینچنا 'واقعی ایک کڑا امتحان' ہے۔

وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں: ’ہمیں بہت احتیاط سے اپنی جذباتی کیفیت کو الگ رکھ کر بات کرنی چاہیے اور اپنی رائے ان پر مسلط نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ شاید سمجھ ہی نہ پائیں کہ وہ ایک نقصان دہ تعلق میں ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ شرمندگی کا شکار ہوں اور اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں۔‘

وہ مشورہ دیتی ہیں کہ دوست سے گفتگو کچھ ایسے شروع کریں ’مجھے تمہاری بہت فکر ہے، میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں کیونکہ لگتا ہے کہ تم آج کل کچھ پریشان پریشان سی رہتی ہو۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ضروری ہے کہ ’صرف حقائق تک محدود‘ رہیں اور صرف وہی بات کریں جسے آپ نے خود دیکھا ہو۔ وہ ’مجھے وہ بالکل پسند نہیں‘، ’وہ زہریلا ہے‘ یا ’وہ بدسلوکی کرنے والا ہے‘ جیسے جملوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔

اگر آپ اپنے دوست سے تو ملنا چاہتے ہیں لیکن ان کے ساتھی کو برداشت نہیں کر سکتے، تو ولیم سن کے مطابق اس کو بھی نرمی سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ ’میں کہوں گی: 'مجھے تم سے سچ مچ محبت ہے، لیکن مجھے تمہارے ساتھی سے کچھ دوری رکھنی پڑے گی کیونکہ ان کے رویّے سے میں آرام دہ محسوس نہیں کرتی ہوں، تاہم تمہارے ساتھ وقت گزارنے کو دل چاہتا ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اپنے اردگرد سپورٹ سسٹم رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی اور کا خیال رکھنا مسلسل تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔

رشتوں اور ٹراما کی ماہر یاسمین شاہین ظفر کہتی ہیں کہ ’سیلنگ سن سیٹ‘ سیریئل میں اکثر کشیدگی اس وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے کہ کاسٹ کے ارکان ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کرتے ہیں اور بعد میں انھیں ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں: ’گپ شپ سے پرہیز کریں اور نہ اپنے دوست کے بارے میں نہ ان کے ساتھی کے بارے میں دوسروں میں بات پھیلائیں، جو معاملے کو بڑھا چڑھا سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اپنی حفاظت کو مقدم رکھنا‘ ضروری ہے کیونکہ آپ کی بات ’توڑ مروڑ کر آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔‘

ایک دوست کو اس کے دوست کے بارے میں کوئی مشورہ دینے سے قبل اپنے آپ کو تول لیں
Getty Images
ایک دوست کو اس کے دوست کے بارے میں کوئی مشورہ دینے سے قبل اپنے آپ کو تول لیں

’شائستگی برقرار رکھیں‘

اگر مسئلہ صرف یہ ہو کہ آپ اپنے دوست کے ساتھی کی رائے یا اقدار سے اتفاق نہیں کرتے تو کیا کریں؟

سیلنگ سن سیٹ میں سٹاؤس اور ہرنان، ڈیوس کے سیاسی نظریات پر بھی بحث کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ڈیوس کو شو کے نویں سیزن میں دکھایا جانا تھا لیکن ایک اور کہانی کو ترجیح دینے کے باعث ان کے مناظر نکال دیے گئے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان مناظر میں سٹاؤس اور ڈیوس کے درمیان کوئی سیاسی اختلاف تھا یا نہیں، لیکن ہرنان نے یہ مؤقف ردّ کر دیا کہ ڈیوس نے سٹاؤس کے سامنے کوئی 'سیاسی رائے' ظاہر کی تھی۔

شاہین ظفر کہتی ہیں کہ بالآخر ’آپ کو لوگوں کے انفرادی فیصلوں کا احترام کرنا‘ ہوتا ہے اور اگر آپ اس دوست کو اپنی زندگی میں رکھنا چاہتے ہیں تو ’شفقت اور شائستگی‘ برقرار رکھنی چاہیے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم نے شاید یہ عادت اپنا لی ہے کہ جو شخص ہمارے نظریے سے مختلف ہو ہم اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ مشورہ اس صورت پر لاگو نہیں ہوتا جب کوئی شخص کھلم کھلا تعصب کا اظہار کر رہا ہو، بلکہ ان حالات میں ہوتا ہے جب کوئی رائے صرف آپ کی پسند کے خلاف ہو۔ 'اس کے لیے خود کو سمجھنا اور دوسروں کی آرا کو قبول کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ آپ اپنے دوست کے ساتھی کی خود سے مختلف آرا برداشت کر پائیں گے یا نہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی اپنی 'اقدار کہاں تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں'۔

کبھی کبھی ساتھی کا رویّہ اتنا ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی دوستی کو ہی توڑ دے۔

جورجیا کے ساتھی کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بعد حنّا نے فیصلہ کر لیا کہ اگر اس کی دوست اسی شخص کے ساتھ رہنے کا انتخاب کرے گی تو پھر وہ اس سے مل نہیں سکیں گی۔

حنّا کہتی ہیں: 'میں نے اسے کہا: ’مجھے تم سے محبت ہے، میرا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، مگر میں اس آدمی کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دے سکتی، اس کی موجودگی مجھے اچھی اور صحت مند نہیں لگتی، اور میں بہت خوفزدہ اور غیر محفوظ محسوس کرتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد سے ان دونوں کی بات نہیں ہوئی اور دوستی کا ختم ہونا ’بہت تکلیف دہ‘ تھا۔ وہ اور جورجیا ’بہت عرصے سے دوست تھیں اور بہت اچھا وقت گزارا تھا‘، تاہم وہ کہتی ہیں کہ آج اگر وہ غور کرتی ہیں تو انھیں اپنے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US