شہر قائد کے علاقے محمد علی سوسائٹی میں رواں سال کی سب سے بڑی چوری کی واردات ہوئی ہے جس میں دو گھریلو ملازماؤں نے 100 تولے سے زائد سونا اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ چوری کی مالیت ساڑھے 4 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ واردات کے حوالے سے بہادر آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کو ماسیوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کر دی گئی ہے جس میں ایک ماسی کا چہرہ کھلا جبکہ دوسری نے کالے رنگ کا ماسک لگا رکھا تھا۔ متاثرہ فیملی کے مطابق یہ دونوں ملازمائیں ایک روز قبل ہی گھر پر کام کے لیے رکھی گئی تھیں۔
فیملی کے مطابق بلڈنگ کے چوکیدار کی سفارش پر ماسیوں کو نوکری دی گئی تھی اور چوکیدار نے بتایا تھا کہ نادیہ اور دلشاد آپس میں نند بھاوج ہیں۔ دونوں ماسی شام 6 بجے گھر سے واپس چلی گئی تھیں لیکن جب گھر کی خواتین واپس آئیں تو دیکھا کہ کمرے کی الماری کا لاک ٹوٹا ہوا تھا اور فرش پر سونے کے زیورات کے ڈبے بکھرے ہوئے تھے۔
واردات میں سونے کے 6 سیٹ، انگوٹھیاں اور کڑے چوری ہوئے جس کی کل مقدار تقریباً 100 تولے سے زائد ہے۔ متاثرہ فیملی نے مطالبہ کیا ہے کہ نادیہ اور دلشاد کے خلاف کارروائی کی جائے اور چوری شدہ سامان ریکور کیا جائے۔
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے جس میں واردات کے بعد فرار ہونے کے مناظر بھی واضح ہیں۔