بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ملک گیر ویکسین مہم کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، وزیر صحت

image

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا وژن صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ بھی ہے۔ اس سلسلے میں ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کے ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن کو ملک کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم مؤثر بنانے کے لیے 20 فور بائی فور گاڑیاں فراہم کی ہیں۔

یہ گاڑیاں 20 ترجیحی اضلاع میں تعینات کی جائیں گی جہاں غیر ویکسینیٹڈ بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو تین تین، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق کو دو دو، جبکہ سی ڈی اے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کو ایک ایک گاڑی فراہم کی گئی۔

تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اگر ہم صرف اسپتالوں پر انحصار کریں گے تو نظام صحت مزید دباؤ کا شکار ہوگا۔ ہر سال پاکستان میں 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں اور پیدائش سے صحت مند زندگی تک کا سفر اب بھی چیلنجز سے بھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو “سِک کیئر سسٹم” سے نکل کر پریوینٹو ہیلتھ کیئر سسٹم کی طرف جانا ہوگا۔

سید مصطفیٰ کمال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی ٹیکہ جات پر اعتماد کریں اور بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کی فراہم کردہ گاڑیاں دور دراز علاقوں میں بچوں تک ویکسین کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو دپینگ نے کہا کہ مؤثر عوامی صحت کے لیے قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ ناگزیر ہے اور یہ گاڑیاں فیلڈ سپرویژن اور لاجسٹک مسائل کے فوری حل میں مدد دیں گی۔ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا کہ یہ اقدام صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے 1978 میں ڈبلیو ایچ او کے اشتراک سے ای پی آئی پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت ہر سال 70 لاکھ سے زائد بچے اور 55 لاکھ حاملہ خواتین حفاظتی ٹیکہ جات سے مستفید ہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر گزشتہ 50 برسوں میں ویکسینز نے تقریباً 15 کروڑ 40 لاکھ زندگیاں بچائی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US