تحریک انصاف کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے محمود خان اچکزئی کے انتخاب کی امید ظاہر کی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے کاغذات جمع کرا دیے گئے ہیں، جن کی کل تک تصدیق ہوجائے گی جبکہ جمعرات تک تقرر متوقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک موجود نہیں۔
چیف وہپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے پارٹی کا واحد امیدوار محمود خان اچکزئی ہیں اور امید ہے کہ وہ منتخب ہو جائیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا اختیار اسپیکر کے پاس ہے اور وہ جب چاہیں نوٹیفکیشن جاری کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوتے ہی سینیٹ میں بھی تقرر کا عمل مکمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو دعوت دے دی اور تمام فریقوں کے اتفاق سے الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو کا مطالبہ کر دیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری دی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بے بنیاد اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں ، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کو بحال کیا جائے۔
قرارداد میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور سندھ حکومت کی جانب سے دورے کے دوران رکاوٹیں ڈالنے کی مذمت کی گئی۔
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملک اس وقت ایک نہایت نازک اور پیچیدہ سیاسی دور سے گزر رہا ہے، جمہوری قوتوں سے مطالبہ ہے کہ ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پاکستان کی ایسی تشکیلِ نو شامل ہو جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہو، جبکہ شفاف، آزاد و منصفانہ نئے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سیاسی اسیران کے ساتھ انصاف اور قانونی برابری کو یقینی بنایا جائے۔ قرار داد میں پارلیمانی پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے دورۂ لاہور کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے بلائے گئے امن جرگے کے اعلامیے کو من وعن تسلیم کیا جائے، اعلامیے پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔