انجمن نانبائیان ایسوسی ایشن ضلع پشاور نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب سے آٹے کی سپلائی پر پابندی نہ ہٹائی گئی یا صوبائی فلور ملز سے مناسب کوٹا فراہم نہ کیا گیا تو نانبائیوں کے پاس دکانیں بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔
پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ضلعی صدر خستہ گل، چیئرمین رحیم صافی اور جنرل سیکریٹری حاجی فاروق نے بتایا کہ چار ماہ سے پنجاب سے خیبر پختونخوا میں آٹے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے، جس سے نہ صرف عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ نانبائی بھی مسلسل مالی نقصان کا شکار ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آٹے کے ٹرکوں پر فی ٹرک ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت وصول کرکے انہیں خیبر پختونخوا میں داخل کیا جا رہا ہے، جبکہ ٹرک کرایہ الگ سے ادا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث نانبائیوں کے لیے منافع کم از کم ہوگیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب سے سپلائی پر پابندی فوری ختم کی جائے اور اگر ضرورت پڑی تو پشاور کے فلور ملز کو آٹا فراہم کیا جائے، سبسڈی دی جائے اور ریٹ مقرر کیا جائے تاکہ کاروبار جاری رکھا جا سکے۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور ن لیگ کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم مسئلے پر ابھی تک سنجیدگی دکھائی نہیں دی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب حکومت سے بات کر کے اس مسئلے کا فوری حل نکالیں۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو مجبوراً وہ اپنی دکانیں بند کر دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور (ن) لیگ پر عائد ہوگی۔