پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جو کہ ڈبلیو ایل ایف سے منسلک ادارہ ہے۔ ٹرمپ خاندان کے افراد نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل قائم کی تھی۔
پاکستان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت لانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف) کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخظ کیے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جو کہ ڈبلیو ایل ایف سے منسلک ادارہ ہے۔
بیان کے مطابق اس یادداشت کے تحت ’سرحد پار لین دین کے لیے اُبھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔‘
یادداشت پر دستخط کے وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈبلیو ایل ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف سمیت دیگر حکام موجود تھے۔
خیال رہے زچری وٹکوف امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے بیٹے ہیں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس مفاہمتی یادداشت سے آگاہ ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کام کرے گی اور اپنے ایک ارب ڈالر سٹیبل کوائن کو ادائیگیوں کے ڈیجیٹل سٹرکچر کے ساتھ ضم کرے گا، جبکہپاکستان بھی اس کے ذریعے اپنا ذاتی ڈیجیٹل کرنسی سٹرکچر چلا پائے گا۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم بائنانس کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے جس کے ذریعے دو ارب ڈالر تک کے حکومتی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور ان کی بلاک چین پر مبنی تقسیم پر کام کیا جائے گا۔
’ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں جدت لائی جائے گی‘
پاکستان کے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی کمپنی ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں وفد نے بدھ کو ملاقات کی جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز مارشل عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔
سرکاری سطح پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ’ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے اپنا وژن پیش کیا‘ جس کا مقصد شہریوں کو ’زیادہ بہتر رابطوں، رسائی اور شفاف ذرائع کی سہولت کو فروغ دینا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی وسعت اختیار کرتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔
وزیراعظم نے ’پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔‘
اس موقع پر زچری وٹکوف نے ’محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی جس میں سرحد پار ادائیگیوں اور زر مبادلہ کے عمل میں جدت شامل ہے۔‘
اس بیان کے مطابق انھوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو ’سراہا جس کی بدولت پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظرنامے میں تیزی سے ابھر رہا ہے۔‘
انھوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد ’سرحد پار لین دین کے لیے درکار ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر باضابطہ بات چیت اور تکنیکی مہارت کو فروغ دینا ہے۔‘
ٹرمپ خاندان کی پشت پناہی سے جاری ہونے والا کرپٹو ٹوکن ستمبر 2025 میں عوامی سطح پر ٹریڈ ہونا شروع ہواورلڈ لبرٹی فنانشل کیا ہے اور ٹرمپ کا اس سے کیا تعلق ہے؟
ٹرمپ خاندان کی پشت پناہی سے قائم کرپٹو ٹوکن ستمبر 2025 میں عوامی سطح پر ٹریڈ ہونا شروع ہوا تھا۔ اس سے امریکی صدر اور ان کے بیٹوں کی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
ٹرمپ خاندان کے افراد نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل قائم کی جس پر ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کے سوالات اٹھے تھے کیونکہ وہ اس صنعت میں شامل ہو گئے تھے جسے وہ بطور صدر ریگولیٹ کرنے کی پوزیشن میں تھے۔
کمپنی نے سرمایہ کاروں کو اپنے نام سے جاری ڈیجیٹل ٹوکن فروخت کر کے فنڈز اکٹھے کیے جنھیں ابتدائی طور پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
تاہم گذشتہ سال جولائی میں سرمایہ کاروں نے ووٹ دے کر ابتدائی خریداروں (جن میں ٹرمپ خاندان شامل نہیں تھا) کو اپنی ہولڈنگز کا 20 فیصد تک فروخت کرنے کی اجازت دی۔ یہ ٹوکن وی ایل ایف آئی کے نام سے ٹریڈ ہوتا ہے۔
مالیاتی دستاویزات کے مطابق خود ٹرمپ کے پاس تقریباً 15.75 ارب وی ایل ایف آئی ٹوکنز ہیں جن کی مالیت 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یوں ان کی دولت کا سب سے بڑا ذریعہ کرپٹو ہے۔
ٹرمپ خاندان مجموعی طور پر تقریباً 100 ارب وی ایل ایف آئی کوائنز میں سے ایک چوتھائی سے کچھ کم پر کنٹرول رکھتا ہے، جس کی مالیت تقریباً پانچ ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ اور ان کے بیٹوں کو کوائن سیلز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی حصہ ملتا ہے جو اب تک 500 ملین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔
یہ آمدنی اس وقت مزید بڑھی جب ورلڈ لبرٹی فنانشل نے ایک دوسری عوامی کمپنی کے ساتھ شراکت کی جس نے کرپٹو کرنسی خریدنے کے لیے سرمایہ کاروں سے 750 ملین ڈالر اکٹھے کیے۔
اس معاہدے نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کو ایک غیر معمولی پوزیشن میں ڈال دیا جہاں وہ وی ایل ایف آئی ٹوکن کا خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہے۔
ڈیموکریٹس نے مسلسل ٹرمپ کے کرپٹو کاروبار پر تشویش ظاہر کی ہے اور اسے مفادات کا ٹکراؤ کہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس تنقید کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ انتظامیہ کی پالیسیاں ’تمام امریکیوں کے لیے جدت اور معاشی مواقع پیدا کر رہی ہیں۔‘
جبکہ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔
'ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن' کیا ہے اور پاکستان نے اپنے اثاثوں کے لیے بائنانس کی مدد کیوں حاصل کی ہے؟
گذشتہ سال پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور بائنانس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جسے حکومت کی جانب سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ یہ پاکستان کی معاشی اصلاحات کے سفر میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق حکومت اب اس منصوبے پر تیزی سے عملی پیشرفت چاہتی ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخظ کے بعد اگلا مرحلہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔
پاکستان میں کرپٹو کونسل اور ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں حکومت اور بائنانس کمپنی کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت اہم پیش رفت ہے۔
اس پیش رفت میں حکومتی مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کی بات کی گئی تھی۔
بی بی سی کے لیے صحافی تنویر ملک نے ڈیجیٹل ایسٹ کے شعبے کے ماہرین اور حکومت سے اس نئی پیش رفت پر بات کی کہ یہ کیسے ہوگا اور اس سے پاکستان کی معیشت کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔
حکومتی مالیاتی اثاثوں کی بات کی جائے تو اس میں حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بانڈز شامل ہوتے ہیں جس کے ذریعے حکومت مقامی اور غیر ملکی مالیاتی مارکیٹوں سے پیسے لیتی ہے۔
اسی طرح پاکستان کے اندر سٹیٹ بینک کی جانب سے ٹریژری بلز (یا ٹی بلز) کے ذریعے بھی حکومت کمرشل بینکوں سے پیسے ادھار پر حاصل کرتی ہے۔
سافٹ ویئر کمپنی آئیڈیوفیوژن کے چیف ایگزیکٹو علی زین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو ڈیجیٹل ٹوکن میں بدل دینا جو بلاک چین یا ڈیجیٹل نظام پر موجود ہوتا ہے۔
’جیسا کہ حکومت کا ایک بانڈ جو روایتی طریقے سے جاری ہوتا ہے تاہم اب اس کو ڈیجیٹل ٹوکن میں بدل دیا جائے گا اور یہ ٹوکن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے خریدے یا بیچے جا سکتے ہیں۔‘
علی زین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بڑے اثاثے کو چھوٹے چھوٹے ٹوکن میں تقسیم کر کے اسے فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل ایسٹ شعبے کے ماہر ارسلان خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی ایک آپریٹنگ سافٹ ویئر سسٹم ہے جو ٹوکن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسفر کر سکتا ہے اور اس ٹوکن پر ایک ویلیو رکھی ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عموماً جو فنانشنل ٹرانزیکشن ہوتی ہیں اس پر لاگت آتی ہے اور وہ پانچ، چھ مرحلوں میں طے ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فناننشل ٹرانزیکشن پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ تین ٹریلین ڈالر(3000 ارب ڈالر) تک ہے۔
تاہم بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹوکنائزڈ ڈیجیٹل ایسٹ کی ٹرانزیکشن سینکنڈوں میں ہو جاتی ہے اور دوسری طرف اس کی لاگت کچھ سو ملین ڈالر ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر کسی ڈیجیٹل ایسٹ کا جو ٹوکن بنتا ہے اس کی منفرد شناخت ہوتی ہے جس کی بنیاد پر لین دین ہوتا ہے۔
پاکستان اور بائنانس کے درمیان مفاہمتی یادداشت کتنی اہم ہے؟
پاکستان اور بائنانس کمپنی کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل ایسٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر پیش رفت کے بعد معاہدہ ہوتا ہے تو پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں کام کرنے والوں کو ایک ریگولیٹری ماحول فراہم ہوجائے گا۔
اس کے ساتھ ملک میں اس کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری کو بھی لایا جا سکتا ہے جب کہ مقامی سرمایہ کار اس کے ذریعے عالمی مالیاتی اور کیپیٹل مارکیٹوں میں بھی باآسانی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
علی زین نے اس کے بارے میں بتایا کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ڈیجیٹل کرنسیوں کے شعبے میں کام کرنے والے ایکسچینجز پر کام کر رہی ہے تاہم بائنانس وہ ڈیٹا یہاں فراہم نہیں کرتا۔
انھوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ یہ ڈیٹا بھی فراہم کریں گے اور انھیں پھر ایک ریگولیٹڈ ماحول بھی مل جائے گا۔ اس کے ساتھ صارفین کو بھی سکیورٹی مل جائے گی کہ جو اس شعبے میں کام کریں گے۔
انھوں نے کہا اسی طرح بیرونی دنیا سے کسی منصوبے میں سرمایہ کاری لانے کے لیے بھی یہ ریگولیٹڈ ماحول بہت مدد فراہم کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ کسی منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے درکار لاگت کو ٹوکنائز کر دیا جائے گا جس کی وجہ سے باآسانی یہ سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔
انھوں نے کہا جیسے سٹاک مارکیٹ میں کسی کمپنی کے حصص کی فروخت کے لیے ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) کے لیے حصص کو فروخت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے تقریباً انھی خطوط پر یہ کام ہوتا ہے۔
ارسلان خان کے مطابق ایک ریگولیٹڈ نظام میں کام کرنے سے بہت زیادہ آسانی ہو گی۔
انھوں نے کہا سب سے پہلے یہ کام ادارہ جاتی ہو جائے گا جس سے کام کرنے والوں کو بھی سہولت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ بیرونی دنیا سے سرمایہ کاری کو لانے کے ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کو گلوبل مارکیٹ تک بھی رسائی ہو جائے گی۔
پاکستان سے بیرونی مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے ڈالر کے ملک سے باہر جانے کے خدشات کے بارے میں ارسلان نے بتایا کہ اس کا ملک میں ڈالر کے ذخائر پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا جب بائنانس کمپنی پاکستان میں کام کر رہی ہو گی تو ٹوکنائزیشن کے لیے ڈالروں میں ادائیگی نہیں ہو گی بلکہ مقامی کرنسی میں یہاں پر بائنانس کمپنی کو ادائیگی کی جائے گی۔
انھوں نے ڈالر کے آؤٹ فلو کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا پر اس مفاہمتی یادداشت پر تبصرے اور اسد عمر کا سوال
اس مفاہمتی یادداشت کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اس پر تبصرے سامنے آئے ہیں جس میں کچھ اس کے بارے میں پُرامید ہیں تو کئی لوگوں نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں تحریک انصاف حکومت کے دور کے وزیر خزانہ اسد عمر کا ایکس پر پوسٹ کیا گیا پیغام ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’دو ارب ڈالر اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے لیے کیا راستہ اختیار کیا گیا ہےَ اور کیا اس میں شفافیت شامل ہے؟‘
اسد عمر کے مطابق بائنانس ایسٹ کی ٹوکنائزیشن کے لیے عالمی سطح پر بڑی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی اس ٹاسک کے لیے اس کی ساکھ ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’ایسٹ ٹوکنائزیشن کے لیے عالمی سطح کے معروف نام بلیک راک، یو بی ایس، گولڈمین سیکس، جی پے مورگن، ایچ ایس بی ایس کہاں ہیں؟‘

اس سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بائنانس کے ساتھ جس مفاہمت کی یادشت پر دستخظ ہوئے ہیں وہ ایک این او سی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ایسٹ کی ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے اور ریگولیٹری رجیم کو کیسے فالو کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دیکھا جائے گا کہ بائنانس نے کس حد تک اس پر عملدرآمد کیا ہے اور اگر پوری طور وہ ایسا کرتی ہے تو اس کے بعد مزید پیشرفت ہو گی۔‘
خرم نے کہا کہ بائنانس کو ’کوئی لائسنس نہیں دیا گیا بلکہ مفاہمتی یادداشت کی صورت میں ایک این اوسی جاری کی گئی ہے۔‘
بائنانس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بلاک چین کی ٹاپ ایکسچینج کمپنی ہے۔
ان کے مطابق پاکستانی پہلے سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ ’اب حکومت چاہتی ہے کہ ایک ایسا ایکو سسسٹم بنایا جائے کہ جہاں پر انھیں ریگولیٹڈ ماحول میں انھیں پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔‘