بجلی کی بلند قیمتیں صنعت کے لیے خطرہ، کراس سبسڈی کا بوجھ صنعتوں کے لیے مہلک

image

سابق نگراں وفاقی وزیر اور معروف صنعتکار گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ بجلی کی بلند قیمتوں سے انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے اور گزشتہ دو برس کے دوران صنعتی بجلی کی کھپت میں سات فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

گوہر اعجاز نے ڈسکوز کی کھپت کا چارٹ بھی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صنعتوں پر موجودہ ایک سو دو ارب روپے کی کراس سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے، جو صنعتی شعبے کے لیے ”ڈیتھ وارنٹ“ ثابت ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت میں بجلی کی کھپت 38 فیصد کم ہوچکی ہے اور زیادہ تر زرعی صارفین آف گرڈ سولوشنز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ایک کروڑ دس لاکھ گھریلو صارفین بھی سولر پر منتقل ہو چکے ہیں جبکہ ماہانہ دو سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔

گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا کہ پاور ڈویژن آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے ٹیرف پر دوبارہ مذاکرات کرے، صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی سستی کی جائے، کیونکہ موجودہ انکریمنٹل پیکیج سے صنعتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سونا دینے والی مرغی کو ذبح کیا گیا تو عوام کو نقصان پہنچے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US