پاکستان سپر لیگ کی جنرل کونسل میں فیصلہ ہوگیا ہے کہ ٹورنامنٹ 26 مارچ سے شروع ہوگا اور اس سال سے ڈراف کی بجائے کھلاڑیوں کو آکشن میں لیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کو ہونے والی میٹنگز میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ پیسے ملیں اور ان کو آکشن کے ذریعے لیا جائے۔ کافی بات چیت کے بعد اس پر فیصلہ ہوگیا کہ فرنچائزز اب سے کھلاڑیوں کو آکشن کے ذریعے لیں گے۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ کہ پی ایس ایل کی جنرل کونسل میں اب یہ طریقہ کار واضح کر دیا جائے گا کہ آکشن سے پہلے جو 8 فرنچائزز ہیں وہ کتنے کھلاڑیوں کو ریٹین کرسکتی ہے اور کتنے اوورسیز پلیئرز کو وہ ڈائریکٹ بات چیت کر کے سائن کر سکتی ہے۔
کچھ فرنچائزز اس بات پر راضی نہیں تھے کہ آکشن کا سلسلہ شروع کیا جائے مگر محسن نقوی نے جب زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پی ایس ایل کو آگے بڑھانے کے لیے سسٹم چینج کیا جائے تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔
پی ایس ایل میں دو نئی ٹیمیں شامل ہوئی ہیں حیدرآباد اور سیالکوٹ، ان کے مالکان نے اس چیز پر زور دیا ہے کسی فرنچائز کو کسی کھلاڑی کو ریٹین کرنے نہیں دیا جائے اور نئے سرے سے آکشن میں خریدا جائے۔