پاکستان سپر لیگ کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا ہے کہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھ کر 8 ہوجانے کے بعد کھلاڑیوں کی ریٹینشن کا معاملہ اور حساس ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ فرنچائزز میں سے کچھ 5 یا 6 کھلاڑیوں کی ریٹینشن کی خواہاں ہیں جبکہ کچھ فرنچائزز صفر ریٹینشن کی حامی ہیں۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ گورننگ کونسل کی جمعہ کو ہونے والی میٹنگ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
سلمان نصیر نے بتایا کہ ڈائریکٹ سائننگ، ڈرافٹ اور نیلامی سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں اور سوشل میڈیا پر بحث کے باوجود فیصلہ صرف گورننگ کونسل میں کیا جائے گا۔
آئی پی ایل کے شیڈول سے ٹکراؤ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پی ایس ایل کے شائقین کے لیے بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ وہ اپنی لیگ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بار بھی بہترین غیر ملکی کھلاڑی لیگ کا حصہ بنیں گے اور مزید اعلیٰ معیار کے غیر ملکی کرکٹرز لانے کی کوشش کی جائے گی۔
پی ایس ایل کے آغاز کے لیے 23 اور 26 مارچ کی تاریخیں زیر غور ہیں۔ عید کی تعطیلات، لیبر کی دستیابی اور کھلاڑیوں کی ذاتی مصروفیات اس فیصلے میں اہم عوامل ہیں۔ سلمان نصیر نے کہا کہ 23 مارچ ایک قومی دن ہے اور کوشش ہے کہ اس موقع کو استعمال کیا جائے، بصورت دیگر 26 مارچ بھی ایک مضبوط آپشن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 8 ہو جانا لیگ کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ نئی ٹیموں کی فروخت کے حوالے سے گزشتہ ہفتوں میں متعدد ملاقاتیں، روڈ شوز اور مالی فزیبلٹیز پر تفصیلی مشاورت کی گئی، جس کے باعث نیلامی کا عمل ریکارڈ ساز رہا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں سلمان نصیر نے بتایا کہ آسٹریلیا اور امریکا کے دو گروپس بولی کے عمل میں نمایاں رہے، تاہم پاکستانی سرمایہ کار کمزور نہیں تھے۔ ہر سرمایہ کار کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے، کچھ نے انتظار کی پالیسی اپنائی اور کچھ نے ابتدائی بولیاں دے کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کرنسی میں کمائی کرنے والے سرمایہ کاروں کو پاکستانی روپوں میں ادائیگی کا فائدہ بھی حاصل ہوا۔