پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ڈرافٹ سسٹم ختم کر دیا گیا ہے اور اب ٹیمیں اکشن کے ذریعے کھلاڑی حاصل کریں گی۔ پی سی بی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ٹیموں کو زیادہ متوازن بنانا اور کھلاڑیوں کو بہتر مالی مواقع فراہم کرنا ہے۔
بورڈ نے بتایا کہ لیگ میں شامل ہونے والی دو نئی ٹیموں، حیدرآباد اور سیالکوٹ، کو اکشن سے پہلے چار کھلاڑی لینے کا حق دیا جائے گا۔ اسی طرح چھ پرانی فرنچائزز کو بھی اکشن سے قبل چار کھلاڑی ریٹین کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم ہر کیٹیگری سے زیادہ سے زیادہ ایک کھلاڑی ریٹین کیا جا سکے گا۔
پی سی بی نے پی ایس ایل سے مینٹورز، برانڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ جیسے قوانین ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مزید یہ کہ ہر فرنچائز کو ایک انٹرنیشنل کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ کھلاڑی 2025 میں پی ایس ایل میں شریک نہ ہوا ہو۔
ایک اور اہم فیصلے میں بورڈ نے اکشن کے لیے ہر ٹیم کا سیلری کیپ 16 لاکھ ڈالر مقرر کر دیا ہے، جو اس سے قبل 13 لاکھ ڈالر تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق یہ نئے قوانین پی ایس ایل کو مزید شفاف، مسابقتی اور عالمی معیار کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔